جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

شیر افضل مروت پھٹ پڑے

datetime 19  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف سے نکالے گئے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارٹی سیکرٹری اطلاعات سلمان اکرم راجا کے بعد اپنی توپوں کا رخ سابق سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کی جان موڑ لیا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مجھے نکال پر پارٹی میں واپس لانے کا مطلب ہے کہ میرے خلاف پہلے دو نوٹیفکیشن غلط تھے، کیا آج تک مجھے پارٹی سے نکالے جانے کی وجوہات سامنیآ سکیں؟ نا ہی اب جو نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے اس میں کوئی وجہ بتائی گئی ہے۔پی ٹی آئی کے سابق سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہاکہ یہ رؤف حسن جیسے لیڈر ہوں گے جو لوگوں کو بتاتے ہوں گے، رؤف حسن ماضی میں بھی میرے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں اور گزشتہ روز بھی انہوں نے میرے خلاف بیان دیا ہے۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ رؤف حسن کو سیکرٹری اطلاعات کے منصب سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ سیاسی کمیٹی کے ممبر تھے، اجلاس کی ساری پروسیڈنگ ریکارڈ کرتے تھے اور پھر اسے میڈیا پرسنز اور یوٹیوبرز کو بیچا کرتھے تھے، ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو ساری مخبری کیا کرتے تھے۔انہوںنے کہاکہ رؤف حسن کو اصل میں لانچ کیا گیا تھا، انہیں جب خواجہ سراؤں نے مارا تھا تو میرے دل میں ان کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی تھی لیکن ان کی پارٹی میں حیثیت ایک تنخواہ دار ملازم کی تھی، 8 لاکھ روپے تنخواہ لیتے تھے آخری سال تک اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں یہ (رؤف حسن) 5 کروڑ روپے تو ڈکار گئے ہیں۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ جب مجھے پارٹی سے نکالا گیا تو میں نے ان لوگوں کے خلاف بولنا شروع کیا جن لوگوں نے مجھے پارٹی سے نکلوایا ہے، رؤف حسن اور ان جیسے لوگ مجھے پارٹی سے نکالنے والے گروپ کے گماشتے رہے ہیں۔پارٹی ڈسپلن سے متعلق بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہاکہ پہلے تو میں پارٹی ڈسپلن کی وجہ سے خاموش تھا لیکن اب تو ڈسپلن نام کی کوئی چڑیا باقی نہیں رہی، انہوں نے پارٹی ڈسپلن کے نام پر میرا دھڑن تختہ کیا، بار بار نکالا، بار بار بے توقیری کی اور بار بار بے عزت کیا، ڈسپلن تب تک ہے جب تک کوئی میرے خلاف بیانات نہیں دے گا، جس نے بیان دیا تو میں اس کا تسلی بخش جواب دیتا رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…