جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھے گا، کیا ہم غیر آئینی ہیں؟ جسٹس منصور شاہ

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھے گا تو کیا ہم غیر آئینی ہیں، اگر ہم خود آئینی مقدمے کا فیصلہ کر دیتے ہیں تو ہمیں کون روکنے والا ہے، نظر ثانی بھی ہمارے پاس آئے گی تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمارا دائرہ اختیار ہے۔سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کی جانب سے ٹیکس سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران آئینی بینچ کا تذکرہ ہوا۔

دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس آئینی بینچ سنے گا، ہم ریگولر کیسز سن رہے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے اس وقت کوئی آئینی بینچ نہیں تو یہ جو غیر آئینی بینچ بیٹھا ہے اس کا کیا کرنا ہے، جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھے گا، کیا ہم غیر آئینی ہیں؟سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے ریمارکس دیے کہ مطلب ہے کہ جب تک آئینی بینچ نہیں بیٹھتا، آئینی مقدمات نہیں سنے جائیں گے، ہم اس کیس کو سن بھی لیں تو کوئی ہم سے پوچھ نہیں سکتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اب بار بار یہ سوال سامنے آرہا ہے کیس ریگولر بینچ سنے گا یا آئینی بینچ، اگر ہم کیس کا فیصلہ کر بھی دیتے ہیں تو کیا ہو گا، چلیں اگر ہم خود فیصلہ کر دیتے ہیں تو ہمیں کون روکنے والا ہے؟انہوں نے کہا کہ نظر ثانی بھی ہمارے پاس آئے گی تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمارا دائرہ اختیار ہے، آئینی مقدمات ریگولر بینچ نہیں سن سکتا، وکلا کی طرف سے بھی کوئی معاونت نہیں آرہی ہے۔

جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ ابھی ہم یہ کیس سن سکتے ہیں یا نہیں؟ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ تھوڑا وقت دیں تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سیکشن ٹو اے کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی، جس میں ابھی وقت لگے گا، کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی کہ یہ کیا آئینی بینچ سنے گا یا ریگولر بینچ۔جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی گزارش پر کوئی نقط نظر نہیں دے سکتے، اس کو ملتوی کر دیتے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہم صرف گپ شپ لگا رہے ہیں، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…