پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

سپریم کورٹ،بشریٰ بی بی، نجم الثاقب کی مبینہ آڈیو لیکس’ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ معطل

datetime 19  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے بشریٰ بی بی اور نجم الثاقب کی مبینہ آڈیو سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ معطل کردیااورفریقین کو نوٹسز جاری کر دیے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو مزید کاروائی سے روک دیا۔جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ عدالتِ عظمیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 25 جون کا عدالتی حکم نامہ معطل کر دیا اور تاحکمِ ثانی اسلام آباد ہائی کورٹ کو مزید کارروائی سے روک دیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی عدالتی کارروائی حتمی نہیں ہوئی، ہائی کورٹ نے آرٹیکل 199 کے اختیارِ سماعت سے تجاوز کیا، سپریم کورٹ کے 2 عدالتی فیصلوں میں اصول طے شدہ ہے، ہائی کورٹ از خود نوٹس نہیں لی سکتی۔حکم نامے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا 31 مئی کی ہائی کورٹ کی سماعت میں جو 5 سوالات طے کیے گئے وہ درخواست گزاروں کا کیس ہی نہیں تھا، عدالت کو بتایا گیا کہ ہائی کورٹ تفتیش نہیں کر سکتی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ 29 مئی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے میں اتھارٹیز کو فون ٹیپنگ سے روکا گیا، ہائی کورٹ کے حکم نامے کے سبب انٹیلیجنس ایجنسیز کاؤنٹر انٹیلیجنس نہیں کر پا رہیں، ہائی کورٹ کے حکم نامے کے سبب کسی دہشت گرد کو بھی اب نہیں پکڑ پا رہے، آئی ایس ا?ئی، ا?ئی بی کو فون ٹیپنگ اور سی ڈی آر سے بھی روکا گیا۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ 29 مئی 2024ء کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے کا جائزہ لیا گیا، اس حکم نامے کو اگلی عدالتی کارروائی میں توسیع نہیں دی گئی، اسلام ا?باد ہائی کورٹ نے حکم نامے کو توسیع ہی نہیں دی، اس لیے حکم نامہ معطل نہیں کر رہے۔جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ نے یہ تعین کیا ہے کہ آڈیو کون ریکارڈ کر رہا ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے جواب دیا کہ ابھی تک یہ تعین نہیں ہو سکا، تفتیش جاری ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ بد قسمتی سے اس ملک میں سچ تک کوئی نہیں پہنچنا چاہتا، سچ جاننے کے لیے انکوائری کمیشن بنا، اسے سپریم کورٹ سے اسٹے دے دیا، سپریم کورٹ میں آج تک آڈیو لیکس کیس دوبارہ مقرر ہی نہیں ہوا، پارلیمان نے سچ جاننے کی کوشش کی تو اسے بھی روک دیا گیا، پارلیمان کو کام کرنے دیا جائے گا نہ عدالت کو تو سچ کیسے سامنے آئے گا؟جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ جن سے بات کی جا رہی ہو آڈیو انہوں نے ہی لیک کی ہو، کیا اس پہلو کو دیکھا گیا ہے؟ آج کل تو ہر موبائل میں ریکارڈنگ سسٹم موجود ہے۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…