اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بارش کا پانی گھر میں داخل، پورا خاندان ڈوب گیا، خواتین و بچوں سمیت 11 جاں بحق

datetime 30  جولائی  2024 |

کوہاٹ(این این آئی)ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں ،بجلی گرنے سے درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے،کوہاٹ میں ایک گھر کے تہہ خانے میں پانی جانے سے 11افراد جان کی بازی ہارگئے۔ننگرپارکر اور چھاچھرو میں آسمانی بجلی گرنے سے 9 اور راولپنڈی میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا،خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل اولڈ بازید خیل میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں بارش کا پانی گھر کے تہہ خانے میں داخل ہونے سے 11 افراد جان کی بازی ہار گئے۔کوہاٹ کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش کے باعث بانی گھروں میں بھی داخل ہو گیا۔

ریسکیو 1122 نے بتایا کہ تہہ خانے میں موجود ایک ہی خاندان کے افراد سیلابی پانی میں ڈوب گئے، جبکہ ایک 5 سالہ بچی تا حال لاپتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیلابی پانی میں لاپتا پانچ سالہ بچی کی تلاش جاری ہے، جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد گھرکے تہہ خانے میں سو رہے تھے کہ پانی داخل ہونے سے ہلاکتیں ہوئیں۔ دوسری جانب راولپنڈی میں موسلادھار بارش کے بعد تھانہ وارث خان کے علاقے میں مکان کی چھت گرنے سے 2 خواتین موقع پر جاں بحق ہوگئیں، ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے لاشوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کردیا ہے۔تہہ خانے میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 6 بچے، 3 خواتین اور2 مردشامل ہیں۔تھرپارکر میں بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد، اور بچی سمیت 8 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد مویشی ہلاک ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…