پیر‬‮ ، 05 جنوری‬‮ 2026 

کراچی میں بگٹی خاندان کے دو گروپوں میں فائرنگ’نواب اکبر بگٹی کے بھتیجے سمیت 5 ہلاک

datetime 26  جولائی  2024 |

کراچی (این این آئی )کراچی میں بگٹی خاندان کے دو گروپوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں نواب اکبر بگٹی کے بھتیجے سمیت 5 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان نشاط میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے بعد پولیس نے 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق کراچی میں ڈیفنس کے علاقے خیابان نشاط میں فہد بگٹی گروپ اور علی حیدر بگٹی گروپ کے افراد میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 5 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت میر میثم بگٹی، میر عیسیٰ بگٹی،علی، فہد اور نصیب اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق میرعلی حیدر بگٹی اور قائم علی کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ ابتداعی تحقیقات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ذاتی دشمنی کے نتیجے میں پیش آیا، فائرنگ کے واقعے میں ہلاک اور زخمیوں کا تعلق ایک ہی قبیلے سے ہے۔

ضیا لنجار کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے میں ملوث دونوں گروپوں کا تعلق نواب اکبر بگٹی کے خاندان سے تھا، فہد بگٹی نواب اکبر بگٹی کے بھتیجے جبکہ علی حیدر بگٹی ان کے بھانجے ہیں۔وزیر داخلہ سندھ نے ایڈیشنل آئی جی سے واقعے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا، قانون کی رٹ کے قیام کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔پولیس کے مطابق فائرنگ سے ایک گروپ کے تین اور دوسرے گروپ کے دو افراد جاں بحق ہوئے، فائرنگ کے واقعے میں زخمی اور مارے گئے افراد آپس میں کزن ہیں۔پولیس کے مطابق دونوں گروپوں کے درمیان فائرنگ کے بعد پولیس نے 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔ڈی آئی جی ساوتھ کا کہنا ہے کہ تمام افراد کو ڈیفنس کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا، تمام افراد کا تعلق بگٹی برادری کے دونوں گروپوں سے ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد سے اسلحہ بھی برامد کیا گیا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے۔

ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے بتایا کہ فہد بگٹی اور علی حیدر بگٹی کی قیادت میں دو گروپوں کے درمیان خیابان نشاط پر علی حیدر کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔مرنے والوں میں 50 سالہ فہد احمد نواز بگٹی بھی شامل ہیں، جو مقتول بلوچ سردار نواب اکبر خان بگٹی کے بھتیجے تھے۔شدید زخمی ہونے والوں میں علی حیدر بگٹی بھی بگٹی سردار کے بھانجے ہیں، ڈی آئی جی نے بتایا کہ پولیس کے پاس 8 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں، جنہیں ضلع جنوبی کے مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ڈی آئی جی جنوبی کے مطابق بگٹی قبیلے کے دونوں دھڑوں میں پرانی دشمنی تھی اور انہوں نے ساحل اور درخشاں تھانوں میں ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…