جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

متاثرین سیلاب کی گالیاں سن کر نہیں، الیکشن کی خبر پر غصہ آتا ہے،وزیر اعلی سندھ

datetime 20  ستمبر‬‮  2022 |

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیلاب کی صورتِ حال میں الیکشن کی خبر سننے کا بھی وقت نہیں، سیلاب کی صورتِ حال میں ٹی وی پر الیکشن کی خبر آئے تو میں چینل بدل دیتا ہوں۔وزیرِ اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ میں 30 میں سے 24 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے

، کراچی میں اوسط بارش سے زیادہ بارشیں ہوئیں، بارشوں سے کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔انہوںنے کہاکہ پڈ عیدن میں 1800 ملی میٹر بارش ہوئی، ان اضلاع میں 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات ہیں، ہم نے 30 لاکھ گھرانوں کے لیے چھت کا بندوبست کرنا ہے، ہمیں فوری طور پر ڈیڑھ ملین خیموں کی ضرورت ہے۔وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سیلاب کے باعث پانی کا بہاو اتنا تیز تھا کہ کوئی شخص کچھ نہیں بچا سکتا تھا، لوگ کوشش کرتے ہیں کہ پانی ان کی طرف نہ آئے، مگر پانی کسی امیر غریب کو نہیں دیکھتا۔انہوں نے کہا کہ وبائی امراض سیلاب سے بڑا ایشو ہیں، 504 کیمپس پورے سندھ میں لگائے ہوئے ہیں جن میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کام کر رہا ہے، متاثرین کو دوائیں فراہم کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔وزیرِ اعلی سندھ نے کہا کہ ہمیں مچھر دانیوں کی کثیر تعداد میں ضرورت ہے، غیر ملکی سفیروں سے بھی کہا ہے کہ ہمیں فنڈ کی نہیں، خیموں اور مچھر دانیوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایم کیوایم کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں، ان کی شکایات بھی ہیں، ایم کیو ایم کے ایک وفد کے ساتھ آج ملاقات ہو گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمے داری حکومت کی ہوتی ہے، کراچی میں 1100 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جس کی وجہ سے انفرااسٹرکچر کو شد ید نقصان پہنچا۔وزیرِ اعلی سندھ نے کہا کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کر دیے تھے، کراچی میں سڑکوں کی مرمت کا کام جاری ہے، کراچی میں انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے بہت زیادہ فنڈز چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…