وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کو بڑی دعوت دیدی

  منگل‬‮ 21 جون‬‮ 2022  |  13:30

لاہور (آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنی غلطی تسلیم کر کے میثاق معیشت پر حکومت کے ساتھ بیٹھنا چاہیے،گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جو پاکستان کے حالات کے مطابق نہیں تھا، تمام سبسڈیز کو ختم کرنے کا وعدہ کیا

جبکہ عوام کی معاشی حالت ایسی ہے کہ ہم یہ کر نہیں سکتے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس گزشتہ حکومت کا معاہدہ موجود ہے، جس میں گزشتہ حکومت نے پیٹرول پر سبسڈی زیرو کرنے کا وعدہ کیا، آئی ایم ایف نے وہی شرائط رکھی ہیں جن پر گزشتہ حکومت نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا، معیشت پر اسحاق ڈار رہنمائی کر رہے ہیں، وہ حالات سے باخبر ہیں۔انہوں نے معیشت ایسی خراب کر دی ہے کہ اب اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا ہے، جب ڈالر کنٹرول میں تھا تو انہوں نے واویلا کیا کہ ڈالر کو اسحاق ڈار نے قید کیا ہوا ہے، جب ڈالر کو آزاد چھوڑا تو ڈالر 115 سے 190 پر آ گیا، ہمارے 2 ماہ میں ڈالر 190 سے آ گے گیا۔انہوں نے کہا ہے کہ مشکل یہ پڑی ہے کہ آئی ایم ایف اپنی شرائط میں لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں، آئی ایم ایف سے کہا گیا کہ پیٹرول پر پیسے تین چار اقساط میں بڑھا دیں گے مگر وہ نہیں مانا، پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے باوجود آئی ایم ایف نے اب تک معاہدہ جاری رکھنے پر دستخط نہیں کیے۔ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ صرف اور صرف آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر ہے، جیسے ہی آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو جائے گا، ڈالر کو 182 پر لے آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے عوام نے خود کو الگ رکھا، پی ٹی آئی کی برگر کلاس کے کسی جگہ ہزار اور کسی جگہ 2 ہزار سے زیادہ لوگ نہیں تھے، تین چار مقامات پر ہی ہزار سے 2 ہزار لوگ تھے، باقی جگہ 70 سے 150 افراد تھے۔22 کروڑ کی آبادی میں پی ٹی آئی کے احتجاج پر صرف 10 سے 12 ہزار افراد نے دھیان دیا۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎