بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

صرف نوٹیفکیشن کی حد تک وزیر اعظم کا معاون خصوصی ہوں یار محمد رند نے مستعفی ہونے کی دھمکی دیدی

datetime 24  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر سیاستدان اوربلوچستان اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر یار محمد رند نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں صرف نوٹی فکیشن کی حد تک وزیر اعظم کا معاون خصوصی ہوں، لیکن عملی طور پر میں کچھ

نہیں ہوں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یار محمد رند کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین سالوں میں انہیں وفاقی وزیر توانائی کے کسی اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا ،پانی و توانائی کے مسئلے پر بھی کبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یار محمد رند نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور واپڈا پر بلوچستان کے عوام کو مناسب گیس اور توانائی کی سپلائی سے محروم رکھنے اور بلوچستان کی عوام پر ظلم ڈھانے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پانی و توانائی کا قلمدان اس شخص کو دیا گیا ہے جو بلوچستان کے عوام کی مشکلات کے حوالے سے انہیں سننے کو تیار نہیں ہے۔ان کامزید کہنا تھا کہ بلوچستان کی عوام کے لیے میں نے گیس اور بجلی کی سپلائی کے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی، تاہم سابق وفاقی وزیر توانائی اور وفاقی حکومت نے میری ان کوششوں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔خیال رہے کہ سینیٹ انتخابات سے قبل بھی یار محمد رند نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ میں بلوچستان میں پی ٹی آئی کا پارلیمانی لیڈر ہوں لیکن پھر بھی بلوچستان کے معاملات میں ہمیں مشاورت میں شامل نہیں کیا جاتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…