ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

فیصلہ کریں عدالتی حکم ماننا ہے یا صدارتی آرڈر؟ چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے کی کلاس لے لی

datetime 20  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان گلزاراحمد نے کہا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے فیصلہ کریں عدالتی حکم ماننا ہے یا صدارتی آرڈر، ڈی جی ایف آئی اے نے صدرکی خدمت کرنی ہے توجا کرکریں۔سپریم کورٹ میں ایف آئی اے میں غیرقانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ عدالتی حکم پرہم نے رپورٹ جمع کروادی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ پر ابھی ڈی جی ایف آئی اے کے دستخط کروائیں جس کے بعد عدالتی حکم پر ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے رپورٹ پردستخط کر دیئے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے فیصلہ کریں عدالتی حکم ماننا ہے یا صدارتی آرڈر، ڈی جی ایف آئی اے نے صدرکی خدمت کرنی ہے توجا کرکریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی خدمت کرناہے تو پھر عدالتی فیصلے پرعملدرآمد کروائیں، وکیل صاحب ڈی جی ایف آئی اے کے ساتھ بیٹھ کر سارے فیصلے کو دوبارہ دیکھیں ،ڈی جی صاحب فیصلے کو ایک بار دوبارہ دیکھیں پھر رپورٹ دینا ہے تو دیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کریں۔عدالت نے ایف آئی اے کی 1990 میں بھرتی کئے گئے 60 انسپکٹرزسے متعلق عملدرآمد رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو ایک ہفتے میں نئی عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا جب کہ کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…