جمعرات‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2025 

ریٹائرڈ جرنیلوں، ججوں اور سینئر بیوروکریٹس پر بھاری رقوم ضائع کیے جانے کا معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث آیا مگر کوئی فیصلہ کیوں نہ ہوسکا؟انصار عباسی کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 13  فروری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رواں ہفتے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹیکس دہندگان کی جیبوں سے نکلنے والی بھاری رقوم دوبارہ بھرتی کیے جانے والے اشرافیہ طبقے، ریٹائرڈ جرنیلوں، ججوں اور سینئر بیوروکریٹس پر ضائع کیے جانے کا معاملہ زیر بحث آیاتاہم ملک کے

اعلی ترین ایگزیکٹو ادارے نے اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ کابینہ کے ایک رکن نے خبردار کیا کہ ججوں اور جرنیلوں کی وجہ سے یہ معاملہ حساس ہے۔روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق ایک وزیر نے کہا کہ چند ریٹائرڈ ججوں، جرنیلوں اور بیوروریٹس کے فائدے کیلئے سرکاری خزانے سے بھاری رقوم برباد کی جا رہی ہیں کیونکہ دوبارہ بھرتی کیے جانے والے اِن ریٹائرڈ لوگوں کو بھاری تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور یہ رقوم ان تنخواہوں سے کہیں ز یادہ ہیں جو انہیں اپنی ملازمت کے دوران مل رہی تھیں۔ ساتھ ہی یہ افراد پنشن کے مزے بھی لے رہے ہیں۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ کئی معاملات ایسے ہیں جن میں دیکھا جائے تو یہ افسران اپنی ملازمت کے دوران ہی اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے تقرر کا بندوبست کر دیتے ہیں۔یہ تجویز دی گئی کہ سرکاری خزانے سے ریٹائرڈ جرنیلوں، ججوں اور بیوروکریٹس پر پیسہ ضائع ہونے سے بچانے کیلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ دوبارہ بھرتی (ری ایمپلائمنٹ)

پالیسی میں سختی لائے جس کے تحت انتہائی غیر معمولی کیسز کے علاوہ کسی کے دوبارہ بھرتی ہونے کی گنجائش موجود نہیں۔یہ بھی کہا گیا کہ غیر معمولی حالات میں بھی دوبارہ بھرتی کیلئے ایسے ریٹائرڈ افسران کو اس وقت تک پنشن نہ دی جائے جب تک ان کی دوبارہ ملازمت

کا عرصہ مکمل نہیں ہو جاتا اور دوبارہ بھرتی کیے جانے کی صورت میں انہیں وہی تنخواہ دی جائے جو وہ ریٹائرمنٹ سے قبل وصول کر رہے تھے۔ وزارتی ذرائع کے مطابق، وزیر قانون نے کابینہ کو معاملے کی حساسیت سے آگاہ کیا کیونکہ اس میں عدلیہ اور فوج شامل ہے۔

اس وارننگ کے بعد، کابینہ نے اس معاملے پر کوئی فیصلہ لینے سے گریز کیا اور تجویز دی گئی کہ اس معاملے پر سرکاری ارکان کے چھوٹے گروپ میں بعد میں بات کی جائے گی۔ کابینہ کے ایک رکن نے بتایا کہ حکومت یہ معاملہ پے اینڈ پنشن کمیشن کو غور کیلئے بھیج سکتی ہے لیکن

اس معاملے پر عدلیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ ہونا مشکل ہے۔کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ اداروں کو ناراض کر سکتا ہے۔ اس بات کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ خالصتاً ایگزیکٹو سے وابستہ ہے اور ایگزیکٹو ہی اِن ریٹائرڈ ججوں، جرنیلوں یا پھر سینئر بیوروکریٹس کو دوبارہ بھرتی کرتی ہے اور اس حوالے سے شرائطِ کار طے کرتی ہے،ان افسران کو سرکاری ملازمتیں ایگزیکٹو ہی دیتی ہے لیکن اس کے باوجود کابینہ نے اس معاملے پر کسی فیصلے سے گریز کیا۔

موضوعات:



کالم



یوٹیوبرز کے ہاتھوں یرغمالی پارٹی


عمران خان اور ریاست کے درمیان دوریاں ختم کرنے…

بل فائیٹنگ

مجھے ایک بار سپین میں بل فائٹنگ دیکھنے کا اتفاق…

زلزلے کیوں آتے ہیں

جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…