اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سیاست کا فیصلہ آئندہ 90 دنوں میں ہو جائیگا مولانا فضل الرحمن فساد کی اصل جڑ قرار

datetime 28  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اس وقت اصل فساد کی جڑ مولانا فضل الرحمان ہیں، اسلام کی بات کرنے والے اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں،سیاست کے بند گلی میں جانے سے اپوزیشن کا نقصان ہو گا، سیاست کا فیصلہ آئندہ 90 دنوں میں ہو جائے گا۔

ساری اپوزیشن استعفوں کے حق میں نہیں،اپوزیشن سینیٹ اور ضمنی الیکشن میں حصہ لے گی، لانگ مارچ کے حوالے سے آئندہ ہفتے وزارت داخلہ حکمت عملی تارکرلے گی ،ادارے کبھی بھی پاکستان کوعدم استحکام کی طرف نہیں جانے دیں گے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سیاست کے بند گلی میں جانے سے اپوزیشن کا نقصان ہو گا، سیاست کا فیصلہ آئندہ 90 دنوں میں ہو جائے گا۔شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن سینیٹ اور ضمنی الیکشن میں حصہ لے گی، ساری اپوزیشن استعفوں کے حق میں نہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لانگ مارچ کرے گی اس حوالے سے پنجاب حکومت نے حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے،اگلے ہفتے عمران خان کے ساتھ مل کر وزارت داخلہ بھی حکمت عملی تیار کر لے گی۔ شیخ رشید نے کہا کہ مسلم لیگی سمجھ دار ہیں، ان کو پتہ ہے ٹائپ شدہ استعفیٰ قبول نہیں ہوتا، پی ٹی آئی والوں نے بھی جب استعفے دیئے تو 4 لوگوں نے نہیں دیئے تھے، اسپیکر نے جب پی ٹی آئی والوں کو تصدیق کیلئے بلایا تو

آدھے لوگ نہیں گئے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن والوں کو بتانا چاہتے ہیں جو آپ کرو گے وہ ہم کریں گے۔انہوںنے کہاکہ شہباز شریف سے بلاول بھٹو نے بھی ملاقات کی ہے، ان کا کیس بہت سیریس ہے، اگر نیب نے صحیح طریقے سے کیس پیش کیا تو شہباز شریف کی سیاست ختم ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان چینی نظام کی سوچ رکھتے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ نوازشریف غلط کھیل چکے ہیں، میں نے نوازشریف کے باہر جانے کے حق میں ووٹ دیا، یہ چاہتے ہیں کہ ان کی سیاست بیٹی کو منتقل ہو۔انہوں نے کہا کہ پہلے سے کہا تھا کہ پارٹیوں میں سے پارٹی نکلے گی۔

جے یو آئی سے آغاز ہو گیا ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ موجودہ حالات سے سب سے زیادہ فائدہ آصف زرداری اٹھانا چاہتے ہیں، جب بھی ٹکراؤ کی سیاست ہوئی ہے، آصف زرداری نے فائدہ اٹھایا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ مولانا سے کیسے نمٹنا ہے،جنوری کے مہینے میں اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں بات زیادہ نہیں بڑھنی چاہیے، درمیانی راستہ نکالنا ہو گا، ادارے کبھی بھی پاکستان کوعدم استحکام کی طرف نہیں جانے دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…