ہفتہ‬‮ ، 31 جنوری‬‮ 2026 

لال مسجد سرکاری ،30 سے 40 طالبات نے کمرے بنا کر قبضہ کیا ہوا ہے، ڈپٹی کمشنر نے حقائق بتا دئیے ، ہائیکورٹ کا کیس میںبڑا حکم جاری

datetime 13  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے لال مسجد کا معاملہ حل کرنے کیلئے انتظامیہ کی وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ 2007 میں جس طرح معاملات ہوئے اب پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ،انتظامیہ معاملے کو فوری حل کرے ۔

منگل کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی لال مسجد کی بندش کیخلاف شہداء فاؤنڈیشن کی درخواست پر کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا لال مسجد بند ہے جس پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے عدالت کو بتایا کہ لال مسجد میں30سے 40طالبات موجود ہیں ،لال مسجد سرکاری مسجد ہے، طالبات نے مسجد میں کمرے بنا کر قبضہ کیا ہوا ہے ،لال مسجد کو جانے والا صرف ایک راستہ بند ہے،مسئلہ حل کر رہے ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ کچھ وقت دیا جائے ۔اس موقع پر وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہم چاہتے ہیں خواتین کو وہاں سے ہٹائیں تاکہ مسجد کھل جائے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وہ خواتین کون ہیں ؟ وہ آپ کے ہی لوگ ہیں آپ بچیوں کو وہاں سے کہیں اور بھیج دیں جس پر طارق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ لال مسجد شہداء فاؤنڈیشن کی ملکیت نہیں ،راستہ بند ہونے سے نمازیوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

شہداء فاؤنڈیشن شہداء کے ورثا کی تنظیم ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انتظامیہ کو اس مسئلے کو دیکھنا ہے کہ کیسے حل کیا جاسکتا ہے ، طارق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ نے پہلے بھی امن قائم کیا تھا اب بھی کرسکتی ہے جس پر عدالت کے جج جسٹس محسن اختر کیانی

نے ریمارکس دیئے کہ جس طرح 2007 معاملات ہوئے اب پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو معاملہ فوری قانون کے مطابق معاملہ حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی ۔یاد رہے کہ شہداء فاؤنڈیشن نے مسجد کی بندش کیخلاف عدالت سے رجوع کررکھا ہے ۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…