اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

تمام ڈیمز اتنی مدت میں مکمل کئے جائیں ورنہ یہ کام ہو گا، سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ(این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستا ن جسٹس گلزاراحمد نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر کے تمام ڈیمز تین سال کے اندر مکمل کیے جائیں ورنہ زمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے،وندرسمیت صوبے میں زیر تعمیر ڈیمز کی تعمیر سے متعلق سہ ماہی کارکردگی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائے۔یہ احکامات انہوں نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں پانی کی قلت سے متعلق کیس

کی سماعت کے دوران دئیے۔ بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن نے پانی کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان میں پانی کی صورت حال بدتر ہوتی جارہی ہے،صوبائی حکومت کو اسکا کوئی ادراک ہے سکا کوئی سدباب کیا ہے؟۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ صوبے میں پانی ذخیرہ کرنے کیلئے کتنے ڈیمز ہیں اور نئے کتنے بنارہے ہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل اربا ب طاہر کاسی نے کہا کہ اس وقت صوبے میں شادی کورڈیم،میرانی ڈیم بھرے ہوئے ہیں،صوبے کے ڈیمز تین سال کے پانی کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہنہ جھیل کوئٹہ کی کیا صورتحال ہے وہاں کتنا پانی موجود ہے؟۔ا یڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ جھیل مکمل بھر گئی ہے اسکے ساتھ دیگر علاقوں میں بھی استعداد بڑھارہے ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ استفسار کیا کہ کوئٹہ کے اطراف میں کوئی ڈیم ہے جو ضروریات پوری کرے۔سیکرٹری پی ایچ ای نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 5 ڈیمز مکمل ہیں،4 اگلے سال مکمل ہوں گے صوبے میں 100 ڈیمز کے منصوبے پر کام جاری ہے،40 ڈیمز مکمل اور 60 پر تاحال کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جب یہ سارے ڈیمزمکمل ہوجائیں گئے تو پانی کی قلت ختم ہوجائیگی۔چیف جسٹس پاکستان نے احکامات دئیے کہ بلوچستان میں ڈیمز کی کوالٹی

پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے یہاں 50 سالہ چیز 5 سال بھی نہیں چل سکتی۔انہوں نے کہا کہ ہم ہرکام نیب کونہیں دے سکتے کہ وہ کام کرے جو سامنے کھڑے ہیں یہ ان کا کام ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت چیف منسٹر انکوائری ٹیم سے تحقیقات کروارہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ آپ نے کیسے لوگ رکھے ہیں،انہوں نے کہا کہ وندر ڈیم پر کام جلد شروع کیا جائے

اور ایک سال کے اندر مکمل کیا جائے صوبے بھر کے تمام ڈیمز تین سال کے اندر مکمل کیے جائیں ورنہ زمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔انہوں نے احکامات دئیے کہ وندر ڈیم سمیت صوبے میں بننے والے ڈیمز کی تعمیر سے متعلق سہ ماہی کارکردگی رپورٹ سپریم کورٹ

میں جمع کروائی جائے،عدالت نے ہدایت کی کہ کوئٹہ سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر پی ایچ ای کے ٹیوب ویلز سے عوام کو پانی فراہم کرنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے جس کے بعد سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری نے پانی کی قلت کیس کی سماعت تین ماہ کیلئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…