گرفتار ملزم شفقت حسین اور اسکے خاندان کا خوف آج بھی قائم ،تہلکہ خیز انکشافات

  منگل‬‮ 15 ستمبر‬‮ 2020  |  13:08

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)موٹروے کیس کے دوسرے ملزم شفقت  حسین کے بارے میں علاقہ مکینوں نے انکشاف کیا ہے کہ پورا خاندان مختلف واقعات میں ملوث ہے اور انہوں نے علاقے میں خوف کی فضا قائم کر رکھی تھی ۔6 ماہ پہلے پورا خاندان علاقہ چھوڑ گیا لیکن ان کا خوف آج بھی ختم نہیں ہوا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد میںملزم شفقت  حسین کے اہل علاقہ ان کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں ، 6 ماہ پہلے شفقت  حسین اپنے باپ اللہ دتہ اور بھائی بابر کے ساتھ یہاں سے


نکل گیا ، انہیں معلوم نہیں کہ وہ اب کہاں ہیں ۔علاقہ مکینوں کے مطابق ملزم شفقت  حسین اور اس کا بھائی بابر بھی عابد کے ساتھ مختلف واقعات میں ملوث تھے ، 2019 میں شفقت کے بھائی بابر نے ملزم عابد کے ساتھ ایک بیوہ خاتون کے ساتھ واقعہ کی اور ضمانت پررہا ہو کر آیا تو متاثرہ خاتون کے خاندان کو دھمکیاں دیتا رہا ۔دریں اثنا گرفتار ملزم شفقت حسین نے پولیس کو دئیے گئے بیان میں  انکشافات کیے ہیں۔گرفتار ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ واردات کرنے کے لیے عابد نے اسے اور بالا مستری (اقبال )کو لاہور بلایا، واقعہ کے لیے تینوں نکلے لیکن بالا مستری واپس چلا گیا۔ شفقت  حسین نے اعتراف نے کیا کہ اس نے اور عابد علی نے ڈکیتی کی اور خاتون کونشانہ بنایا۔گرفتار ملزم نے بتایا کہ واقعہ کے وقت ہم نشے میں تھے، متاثرہ خاتون سڑک سے نیچے نہیں جارہی تھی، ہم پہلے بچوں کو نیچے لے کر گئے تو پھر خاتون سڑک سے نیچے آگئی، خاتون کو سڑک سے نیچے آنے کے بعد ہم نے اس کی آبرو ریزی کی، گاڑی کا شیشہ توڑنے سے عابد کا ہاتھ بھی زخمی ہوا تھا۔ملزم نے اعتراف کیا کہ جائے وقوعہ پر پہلے بھیمختلف واقعات کرتے رہے ہیں، پتھر یا لکڑی پھینک کر گاڑیوں کو روکتے تھے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎