جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ایف بی آر میں نئی تعیناتی کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سے تعلق نہیں اپوزیشن نے شوشہ کیوں چھوڑا ؟حکومت نے وضاحت کردی

datetime 5  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ایف بی آر میں نئی تعیناتی کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سے تعلق نہیں، اپوزیشن نے احتساب سے توجہ ہٹانے کیلئے شوشہ چھوڑا ہے ،ماضی میں میرٹ کو نظر انداز اور من پسند افراد کو تعینات کیا گیا۔

ماضی کی من پسند تعیناتیوں کی وجہ سے ادارے تباہ ہوئے۔ایک انٹرویو میں وزیر اطلاعات نے کہاکہ بیوروکریسی میں قانون کے مطابق تعیناتیاں کی جاتی ہیں، بیوروکریسی میں جیسے تیزی سے تعیناتیاں ہوئی ایسی نہیں ہونی چاہیے۔شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے پاس جو اچھا آپشن آئے گا اسے تعینات کردیا جائے گا، شبر زیدی بیمار ہوگئے ورنہ ہم نے تو اچھے کیلئے تعینات کیا تھا اور جو شخص اچھا پرفارم کرتا ہے تو عہدے پر تعینات رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں سسٹم میں شفافیت ضروری ہے لیکن اپوزیشن نے ایسی بیوروکریسی چھوڑی جو کام نہیں کرپارہی تھی لیکن پوری بیوروکریسی کو ایک دم سے تبدیل کرنے سے نقصان ہوگا۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اداروں میں اصلاحات لارہے ہیں، میرٹ پر کام کررہے ہیں، ادارے اس وقت ٹھیک ہوں گے جب ریفارمز ہوں گی، مائنس ون کا شور اس لیے کیا جارہا ہے کہ عمران خان احتساب چاہتے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایف بی آر میں نئی تعیناتی کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سے تعلق نہیں، اپوزیشن نے شوشہ چھوڑا ہے تاکہ احتساب سے توجہ ہٹائی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ اس میں شک نہیں منتخب لوگ ہی عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، ماضی میں ن لیگ ہی کچھ ججز کو بلیک میل کرتی تھی اور ان باتوں کی تاریخ گواہ ہے، جج ارشد ملک کی برطرفی پر ن لیگ کی خوشیاں منانے پر مایوسی ہوئی، یہ ہی وہ لوگ ہیں جو ججز کو دھونس دھمکی میں لاکر فیصلے کراتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے وزیراعظم عمران خان ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے، پاکستان تحریک انصاف عمران کی وجہ ہے، پی ٹی آئی کے اندر سے مائنس ون کی کوئی بات نہیں ہوئی، وزیراعظم عمران خان کے مائنس ون کے بیان کو غلط رخ دیا جارہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…