بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس : رواں مالی سال ملک کی معیشت کو 2600 ارب روپے نقصان کا اندیشہ

datetime 6  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن)کورونا وائرس کی وجہ سے رواں مالی سال2019-20 میں ملک کی معیشت کو 2600 ارب روپے نقصان کا اندیشہ ہے جبکہ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جتنا معاشی نقصان ہو چکا ،آئندہ مالی سال میں بھی ملک کی معیشت سنبھالنا مشکل ہوگا۔

اس لئے نئے بجٹ میں معیشت کو ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لئے اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔کورونا کے باعث برآمدات شدید متاثر ہوئیں جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو900ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا رہے گا ۔ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی ماہرین کے اجلاس کے دوران انکشاف کیا گیا کہ کورونا کی وجہ سے ملک کی معیشت کا حجم 440 کھرب روپے سے کم ہو کر 415 کھرب روپے تک آگیا ہے جس کی وجہ سے جی ڈی پی گروتھ رواں سال 3 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں منفی 0.4 فیصد رہی ۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس کولیکشن 3908 ارب روپے ہی ہوگی ۔اگلے مالی سال کا محصولاتی ہدف رواں مالی سال میں ٹیکس جمع کرنے کی بنیاد پر رکھا جائے گا ان ڈائریکٹ سبسڈیز کو اگلے مالی سال ختم کردیا جائیگا جس کی ہدایت آئی ایم ایف نے بھی کی ہے جبکہ وزارتوں اور ڈویژن کو اضافی گرانٹس دینے کا سلسلہ بھی ختم کر دیا جائیگا ،ہنگامی بنیادوں پر گرانٹس کی منظوری وفاقی کابینہ دے گی ۔اگلے مالی سال کے بجٹ میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے اضافی فنڈز مختص کئے جارہے ہیں تا کہ صحت کے بجٹ سے اضافے سے ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور طبی آلات کی فراہم ممکن ہو۔احساس پروگرام کے ذریعے غریب اور نادار افراد کی مدد کے لئے فنڈز میں اضافہ بھی متوقع ہے ۔غریب باالخصوص دیہاڑی دار طبقے کا زندگی بہتر بنانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جارہی ہے ،کابینہ کے اگلے اجلاس میں اس حوالے سے جامع منصوبہ پیش کیا جائیگا اور منظوری حاصل ہونے کے بعد اسے بجٹ دستاویزات کا حصہ بنا لیا جائیگا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…