’’لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا،چین کا واپسی سے انکار‘‘ فوجی کیمپ قائم،چین نےلداخ کبھی پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ سنا دیا

  جمعہ‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2020  |  12:46

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) لداخ کا متنازع علاقہ بھارت کے ہاتھوں نکلنے لگا ، چین نے واپسی سے انکار کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق لائن آف کنٹرول پر8کلو میٹر کے اندر تک چین نے اپنا فوجی کیمپ تعمیر کر دیا ہے جبکہ واپس نہ جانے کے فیصلے کے بعد دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے کہا یہ بھارت کی جگہ نہیں ہے ۔ قبل ازیں بھارت کی فوج کے دو ٹینکر پہلے ہی سرحد پر پہنچ گئے ہیں لیکن وہ چینی فوجیوں کے خوف سے قریب جانے کی کوشش نہیں کررہے ۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان کیشدہ


حالات کے باعث طے شدہ دوروں کے منسوخ ہونے کا بھی امکان روشن ہو گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق فلیگ میٹنگ کا انعقاد بھی کیا گیا تاہم چین نے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے بھارت مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔آج 12 دن ہونے کے بعد دنیا کی بڑی فوج کا دعویدار بھارت کی لداخ کے مقام پر پٹائی جاری ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو بھارت اب تک چڑھائی کر چکا ہوتا، دنیا ایل او سی پر بھارت اور چین کے درمیان تنازع کو دیکھ رہی ہے۔ بھارت 2022 تک متنازع علاقے میں فضائی اڈٖے قائم کرنا چاہتا ہے۔ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ ہوتا تو بھارت بہت پہلے چڑھائی کر چکا ہوتا اس حوالے سے بھارت کے خطے میں عزائم واضح ہیں ، بھارت کی تمام پالیسیاں واضح ہوتی جا رہی ہیں ان پالیسیوں سے پورے خطے کا امن و استحکام متاثر ہو رہا ہے پہلے پاکستان شکایت کرتا تھا جبکہ اب چین کے ساتھ بھی سرحدی تنازعہ کھڑا ہو چکا ہے۔ بھارت متنازع علاقے میں سڑکوں کا جال بچھانے کا منصوبہ رکھتا ہے جسے وہ فضائی اڈوں کی تعمیر سے عملی جامعہ پہنانا چاہتا ہے۔ یہ صورتحال چین کو قبول نہیں اس لئے انہوں نے رد عمل کا اظہا کیا ہے بھارت اور چین سرحد پھر تنازعے کا ذمہ دار بھارت ہی ہے۔ امریکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کو پیش کش کر چکا ہے جس سے بھارت نے انکار کیا تھا۔ اور تیسرے فریق کی مداخلت کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ اب امریکہ نے بھارت کو دبائو میںدیکھ کر چین کو بھی ثالثی کی پیش کش کی ہے لیکن دیکھنا ہو گا کہ دونوں ممالک اس آفر کو قبول کرتے ہیں یا نہیں، اگر بھارت قبول کر بھی لے تو یہ دوہرا معیار ہو گا کہ وہ چین کے ساتھ تصفیہ طلب مسائل پر تو ثالثی قبول کرے لیکن پاکستان کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ثالثی سے راہ فرار اختیار کرتا ہے۔


موضوعات: