جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے متعلق اخراجات کیلئے نئے وسائل کی تلاش ،حکومت نے کہاں کہاں رابطہ کرلیا؟تفصیلات سامنےآگئیں

datetime 17  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن ) حکومت نے کورونا وائرس (کوویڈ۔19) سے پیدا ہونے والے خطرے سے نمٹنے کے لئے گرانٹ اور امداد کی تلاش شروع کر دی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے اقوام متحدہ کی متعلقہ ایجنسیوں اور عالمی بینک سے گرانٹس اور فوری معاونت کے لیے رابطہ کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی حکومت کورونا وائرس کے خلاف عالمی لڑائی کے لیے خصوصی فنڈز کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک سے رجوع کرنے کے آپشن پر غورکر رہی ہے۔

تاہم سینئر سرکاری عہدیدار نے وضاحت کی کہ اس وقت تک 50 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف فنڈ یا 10 ارب ڈالر کے عالمی بینک کے قرض سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی ہے۔وزارت خزانہ کے ترجمان عمر حمید خان نے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ عالمی ترقیاتی امداد (آئی ڈی اے) کے تحت مراعات یافتہ قرضوں کے طور پر ہنگامی رسپانس ونڈو میں سے تقریبا 20 سے 25 کروڑ ڈالر کے بارے میں عالمی بینک کے ساتھ بات چیت ہوچکی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز فوری طور پر اخراجات کے لیے ہفتوں کے اندر اندر اس امداد کو منظور کرلیں گے۔پاکستان بینک کے ابتدائی رسپانس ونڈو میں سے تقریبا 10 کروڑ ڈالر کے قرض کے لیے اہل ہے جب کہ دیگر پروجیکٹ سرپلس میں سے 15 سے 16 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ہیلتھ ایجنسیوں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت تقریبا 8 کروڑ روپے جاری کررہی ہے جس کے بعد اگلے کچھ دنوں میں 30 کروڑ روپے کی مزید منظوری دی جائے گی۔اس کے علاوہ حکومت کسی بھی غیر متوقع اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وفاقی بجٹ میں سے تقریبا5 ارب روپے کی فراہمی پر بھی غور کر رہی ہے۔

اس پس منظر میں ہی مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کوویڈ-19 سے لڑنے کے لیے خرچ کی جانے والی رقوم کو مالی خسارے کی حد کے خلاف نہیں سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے انہیں مہلک وائرس کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…