ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

کورونا وائرس سے متعلق اخراجات کیلئے نئے وسائل کی تلاش ،حکومت نے کہاں کہاں رابطہ کرلیا؟تفصیلات سامنےآگئیں

datetime 17  مارچ‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن ) حکومت نے کورونا وائرس (کوویڈ۔19) سے پیدا ہونے والے خطرے سے نمٹنے کے لئے گرانٹ اور امداد کی تلاش شروع کر دی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے اقوام متحدہ کی متعلقہ ایجنسیوں اور عالمی بینک سے گرانٹس اور فوری معاونت کے لیے رابطہ کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی حکومت کورونا وائرس کے خلاف عالمی لڑائی کے لیے خصوصی فنڈز کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک سے رجوع کرنے کے آپشن پر غورکر رہی ہے۔

تاہم سینئر سرکاری عہدیدار نے وضاحت کی کہ اس وقت تک 50 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف فنڈ یا 10 ارب ڈالر کے عالمی بینک کے قرض سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی ہے۔وزارت خزانہ کے ترجمان عمر حمید خان نے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ عالمی ترقیاتی امداد (آئی ڈی اے) کے تحت مراعات یافتہ قرضوں کے طور پر ہنگامی رسپانس ونڈو میں سے تقریبا 20 سے 25 کروڑ ڈالر کے بارے میں عالمی بینک کے ساتھ بات چیت ہوچکی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز فوری طور پر اخراجات کے لیے ہفتوں کے اندر اندر اس امداد کو منظور کرلیں گے۔پاکستان بینک کے ابتدائی رسپانس ونڈو میں سے تقریبا 10 کروڑ ڈالر کے قرض کے لیے اہل ہے جب کہ دیگر پروجیکٹ سرپلس میں سے 15 سے 16 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ہیلتھ ایجنسیوں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت تقریبا 8 کروڑ روپے جاری کررہی ہے جس کے بعد اگلے کچھ دنوں میں 30 کروڑ روپے کی مزید منظوری دی جائے گی۔اس کے علاوہ حکومت کسی بھی غیر متوقع اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وفاقی بجٹ میں سے تقریبا5 ارب روپے کی فراہمی پر بھی غور کر رہی ہے۔

اس پس منظر میں ہی مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کوویڈ-19 سے لڑنے کے لیے خرچ کی جانے والی رقوم کو مالی خسارے کی حد کے خلاف نہیں سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے انہیں مہلک وائرس کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…