وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس میں 76ارب کی مالی بد عنوانی،اعلیٰ انجینئرز اور ٹھیکیدار شامل، سب سے زیادہ بد عنوانی وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے آبائی ضلع بہاولپور میں ہوئی ،و زارت کی اپنی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

  منگل‬‮ 18 فروری‬‮ 2020  |  1:02

اسلام آباد(آن لائن)وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس میں 76ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے لیکن کسی افسر ،انجینئر کو سزا ہوئی ہے اور نہ ہی لوٹی ہوئی دولت واپس کی گئی ہے۔ اس بات کا انکشاف وزارت کی اپنی رپورٹ میں ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افسران نے قواعد و ضوابط کے برعکس 27ارب روپے کے ٹھیکے دئیے اور بھاری کرپشن کی۔ جن میں 1326سکیمیں بہاولپور کی تھیں جہاں سے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا تعلق ہے جبکہ 5188سکیموں کے ٹھیکہ میں من پسند ٹھیکیداروں کو زیادہ ریٹس دئیے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق وزارت کے اعلٰی افسران


سے متعلقہ صوبائی حکومتوں سے پیشگی اجازت لئے بغیر 16ارب روپے سے نئی سکیمیں بنائیں اور ٹھیکیداروں کیساتھ ملکر بھاری فنڈز ہضم کررکھے ہیں جبکہ 22ارب روپے کی ترقیاتی سکیمیں متعلقہ تکنیکی مراحل مکمل کئے بغیر جاری کرکے بھاری کرپشن کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹ معاہدے ختم ہونے کے باوجود افسران نے 9ارب 62کروڑ سے زائد کی سکیمیں جاری رکھی ہیں اور ٹھیکیداروں کیساتھ ملکر قومی فنڈز ہضم کرکے افسران نے من پسند ٹھیکیداروں کو 5ارب 70کروڑ کے ٹھیکے دئیے ، مفت انشورنس کی گارنٹی لی اور نہ دیگر سیکیورٹی حاصل کی۔ پاک پی ڈبلیو کے افسران نے ایم این ایز اور سینیٹر ز کی اجازت اور نشاندہی کے بغیر3ارب 78کروڑ کی ترقیاتی سکیمیں بنائیں اور اربوں روپے سے جاری کروا کر بھاری مالی بدعنوانی کی گئی ۔ اس سکینڈل کی تحقیقات کا حکم ہوا لیکن نہ کوئی افسر پکڑا گیا ہے اور نہ کسی کو سزا ہوئی ۔ ان میں 45نامور غیر سیاسی شخصیات کے حکم پر سوا ارب کی سکیمیں جاری ہوئی تھیں ۔ جبکہ صوبائی اسمبلی کے ممبران کے حکم پر اڑھائی ارب روپے کی سکیمیں بنائی گئیں ۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ اعلٰی حکام کی پیشگی اجازت کے بغیر 5ارب 47کروڑ روپے کی ترقیاتی سکیمیں جاری کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں آپریشنل اختیارات نہ ہونے کے باوجود 58کروڑ روپے کی سکیمیں بھی جاری ہو چکی تھیں جبکہ 74کروڑ روپے کا ٹھیکہ ایک ایسے ٹھیکیدار کو الاٹ کیاگیا تھا جو ٹھیکہ لینے کا اہل بھی نہ تھا جبکہ ایک ٹھیکیدار نے کاغذ ات میں زیادہ میٹریل ظاہر کرکے 91کروڑ روپے کا ڈاکہ ڈال رکھا ہے جبکہ ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیے بغیر ایک ٹھیکیدار کو ایک ارب 32کروڑ روپے جاری کئے جاچکے ہیں۔


موضوعات: