حکومت اور عسکری قیادت 5 فروری کوبھارت کیخلاف مشترکہ طور پر کیا کرنے جا رہی ہے؟زبردست فیصلہ کر لیا گیا

  جمعرات‬‮ 16 جنوری‬‮ 2020  |  23:33

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی حکومت نے پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رہے گی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کشمیر سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (ڈی جی آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں 165 دن سے جاری غیر انسانی لاک ڈاؤن کی


مذمت بھی کی۔اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔شرکا کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے متشدد بیانات اور جارحانہ اقدامات کے باعث علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے۔اجلاس کے شرکا نے کہا کہ آر ایس ایس سے متاثر بی جے پی حکومت کی مسلمان اور کشمیر مخالف ہندوتوا کی سوچ خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے۔شرکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 15 جنوری کو مسئلہ کشمیر پر غور کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر غور صورتحال کی سنگینی کا عالمی سطح پر اعتراف ہے۔خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن 165ویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور فوجی محاصرے کے باعث کشمیری بدستور مشکلات کا شکار ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پربھارتی حکومت پر کڑی تنقید کی، بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیرکی خصوصی حیثیت کی منسوخی سے قبل کشمیر کا سخت محاصرہ کرتے ہوئے وہاں اضافی فوجی تعینات کردیے تھے جو اب بھی وہاں موجود ہیں۔سابق وزرائے اعلیٰ، سیاسی رہنماؤں، کارکنوں، وکلاء اور صحافیوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو بغیر کسی الزام کے نظربند کیا گیا۔ کشمیریوں نے انٹرنیٹ کی جزوی بحالی کے بھارتی دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے ایسے بیانات کا مقصد عالمی دباؤ کو کم کرنا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎