جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کوالا لمپور سمٹ، وزیراعظم آفس نے دفتر خارجہ کی سفارشات نظرانداز کر دیں ، اہم انکشافات

datetime 24  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)کوالالمپور سربراہ کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے وزیراعظم آفس نے دفتر خارجہ کی سفارشات کو نظرانداز کیا جس کی وجہ سے پاکستان کو سفارتی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ کوالالمپور سمٹ کے حوالے سے ناخوشگوار صورتحال کا ذمے دار دفتر خارجہ کو ٹھہرانا غلط ہے۔

پاکستان کو جب اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی تو دفتر خارجہ نے حکومت کو احتیاط سے قدم اٹھانے کا مشورہ دیا تھا، چونکہ سعودی عرب اور اس کے عرب اتحادی کانفرنس کو شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے اس لئے حکومت کو یہ تجویز بھی دی گئی تھی کہ اس حوالے سے کھلے عام کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کیا جائے تاہم وزیراعظم آفس نے دفتر خارجہ کی ایڈوائس کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کی کوالالمپور سمٹ میں شرکت کی یقین دہانی کرا دی۔ اگر حکومت ان سفارشات پر توجہ دیتی تو پاکستان کو اس خجالت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔دفتر خارجہ کے حکام نے بتایا کہ حکومت کو واضح الفاظ میں بتا دیا گیا تھا کہ اس کانفرنس میں شرکت کے نتیجے میں سعودی عرب سے ردعمل آئے گا۔ ہم نے تجویز کیا تھا کہ پہلے کوالالمپور سمٹ کے مقاصد اور اہداف کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے لیکن بدقسمتی سے ایسا کوئی ہوم ورک ہونے سے پہلے ہی وزیراعظم نے ملائشیا کو کانفرنس میں شرکت کیلئے اپنی رضامندی دیدی۔اس سوال پر کہ کیا وزیراعظم مسلم دنیا کی سیاسی حرکیات سے باخبر نہیں تھے دفتر خارجہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اس حکومت میں دفتر خارجہ کا پالیسی سازی میں کردار بہت کم ہے۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے زیادہ تر فیصلے حقیقت میں دفتر خارجہ سے مشاورت کے بغیر کئے جا رہے ہیں۔حکام نے ایک اور مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اکتوبر میں ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں افغان طالبان کے وفد کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر بھی دفتر خارجہ کی تجویز کو نظر انداز کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے سینئر حکام اس دورے کو لو پروفائل اور میڈیا کی تشہیر سے دور رکھنا چاہتے تھے تاہم اس کے برعکس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے معمول سے ہٹ کر وفد کے استقبال کے لئے دفتر خارجہ پہنچ گئے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری تصاویر میں شاہ محمود اور اعلیٰ سکیورٹی حکام کو طالبان رہنماؤں سے بغلگیر ہوتے دکھایا گیا جو کہ کوتاہ اندیشانہ فیصلہ تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ طالبان ہماری جیب میں ہیں۔ دفتر خارجہ کبھی اس طرح کا تاثر دینا نہیں چاہتا تھا۔دفتر خارجہ کے اندرونی ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ کو نظرانداز کئے جانے کی ایک وجہ موجودہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود ہیں جو اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں شاید ہی اپنی اتھارٹی منواتے ہیں۔دفتر خارجہ کے بہت سے سینئر افسران اس حوالے سے پریشان ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی حماقتوں کی وجہ سے دفتر خارجہ کا تاثر مجروح ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا جب آپ کے وزیراعظم دفتر خارجہ کی مشاورت کے بغیر خارجہ پالیسی کے حوالے سے عجلت میں فیصلے کرینگے تو اس سے خجالت آمیر صورتحال سے بچنا خاصا مشکل ہوگا۔سابق سفیر عبدالباسط نے بھی کوالالمپور سمٹ کے معاملے کو ہینڈل کرنے کے حوالے سے حکومت کے انداز پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت نے اس کانفرنس میں شرکت کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لئے بغیر دعوت قبول کر لی۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے دفتر خارجہ کو بنیادی کام اور روایتی اور غیرروایتی چینل سے سعودی عرب سے مشاورت کرنی چاہئے تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…