کیا ن لیگ کے پاس شہبازشریف سے کئے جانیوالے 18 سوالوں کے جواب موجود ہیں اور کیا۔۔ان الزامات کے بعد اپوزیشن حکومتی بلوں کی حمایت کرے گی؟پیپلزپارٹی کا ردعمل کیا ہوگا؟وزیراعظم کا لہجہ کیابتا رہا ہے؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

  جمعرات‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2019  |  21:54

وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنی ٹیم کو نہ گھبرانے کی ہدایت کر دی‘ یہ آج اسلام آباد میں ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، وزیراعظم کا لہجہ بتا رہا ہے انہیں پاکستان کی ترقی‘ تبدیلی اور اچھے وقت کا یقین ہے‘میں اکثر حیران ہوتا ہوں اس یقین کے باوجود لوگ معمولی معمولی باتوں پر کیوں گھبرا جاتے ہیں‘ ٹماٹر اگر 400 روپے کلو ہو جائے‘ آٹا17 اعشاریہ چار فیصد‘ سبزیاں تہتر اعشاریہ تین فیصد‘ دالیں 54 فیصداور گھی41اعشاریہ چھ فیصد مہنگا ہو جائے‘ بجلی کے بلوں میں 68 اعشاریہ تین فیصد‘ گیس43 اعشاریہ ایک فیصد


اور پٹرول 23اعشاریہ ایک فیصد مہنگا ہوجائے‘ حکومت ایک سال میں 11 ہزار ارب روپے قرض لے لیے‘ مہنگائی 12اعشاریہ چھ فیصد بڑھ جائے‘ ساری کابینہ مل کر ایکسٹینشن کی سمری تیار نہ کر سکے اور حکومت 14 ماہ میں ایک بھی وعدہ پورا نہ کر سکے تو اس میں گھبرانے والی کون سی بات ہے‘ پتا نہیں عوام اتنی معمولی معمولی باتوں پر کیوں پریشان ہو جاتے ہیں‘ میرا مشورہ ہے عوام کو حکومت پر اعتماد کرنا چاہیے‘ ہمیں ڈرنا اور گھبرانا بند کرنا چاہیے‘ یقین کر لیں حکومت میں موجود شیر شاہ سوری ملک کو صف اول کا ملک بنا کر چھوڑیں گے‘ کل میاں شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا سپریم کورٹ نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا لیکن آج شہزاد اکبر نے ایک بار پھر دودھ اور پانی کو مکس کر دیا‘ کیا ن لیگ کے پاس ان 18 سوالوں کے جواب موجود ہیں اور کیا ان الزامات کے بعد اپوزیشن حکومتی بلوں کی حمایت کرے گی، پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سے ہر قسم کا ڈائیلاگ ختم کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎