جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد اس وقت تک کنٹینر آباد بن چکا، ”مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں‘ کبھی ہم نہیں“ حکومت آج اپنے لفظ کسی اور کے منہ سے نکلتے دیکھ کر کیا محسوس کر رہی ہے؟ آزادی مارچ کی تحریک مزید سخت کیسے ہو گی؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کے ساتھ لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں‘ ان کے ساتھ چند ہزار لوگ ہیں یا پھر یہ تعداد لاکھوں میں ہے ہم نہیں جانتے‘ کیوں نہیں جانتے‘ کیوں کہ یہ مارچ میڈیا پر نہیں دکھایا جا رہا لیکن ماضی بتاتا ہے اس قسم کی پابندیاں زیادہ دیر تک نہیں چلا کرتیں‘ یہ پابندیاں بھی کل تک ختم ہو جائیں گی‘

اسلام آباد اس وقت تک کنٹینر آباد بن چکا ہے‘ تمام بڑی سڑکیں اور چوک بند کر دیے گئے ہیں‘ کل کنٹینرز کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو جائے گا جس کے بعد یہ شہر ایک محصور شہر بن جائے گا‘ کیا قوم کو عمران خان سے اس ردعمل کی توقع تھی‘ ہم یہ نقطہ چند دنوں کے لیے سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں‘ مولانا فضل الرحمان کا تازہ ترین خطاب اور وزیراعظم عمران خان کی 20 اگست 2014ء کی تقریر جب یہ اپنا آزادی مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے تھے اور میاں نواز شریف کی حکومت نے شہر کو کنٹینرز سے بند کر دیا تھا‘ دونوں تقریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وقت کتنا ظالم ہوتا ہے اور یہ حالات کو کس طرح پھیر دیتا ہے‘ شاعر نے کہا تھا ”مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں‘ کبھی ہم نہیں“۔ حکومت آج اپنے لفظ کسی اور کے منہ سے نکلتے دیکھ کر کیا محسوس کر رہی ہے‘ وہ حقوق جو عمران خان 2014ء میں کسی اور سے مانگ رہے تھے یہ آج اس سے بڑے ہجوم کو وہ حقوق دینے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں؟ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفے کے ساتھ ساتھ پوری کابینہ کو گھر بھیجیں گے،ہم آزادی مارچ کر رہے ہیں، کوئی دھرنا نہیں ہے، یہ ایک تحریک کا نام ہے، کون کہتا ہے فضل الرحمان اسلام آباد نہیں پہنچے گا، اسلام آباد پہنچنے پر عوامی رائے کا احترام نہ کیا توآزادی مارچ مزید سخت ہوگا، اس کا کیا مطلب ہے‘ تحریک مزید سخت کیسے ہو گی؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…