اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی نہ مسلم لیگ ن کی شخصیت ،عمران خان کو ہٹا کر کس کو وزیراعظم بنا دیں؟ فضل الرحمن کی مقتدر شخصیت سے ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی

datetime 19  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ، وزیر اعظم عمران خان سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ اکتوبر میں مارچ کرنے کی یہ جو بات ہے اس کے بارے میں مولانا فضل الرحمن اپنے ساتھیوں کو خود کہہ

چکے ہیں کہ آگے جا کر سردی ہو جائے گی تو پھر اس تحریک کو چلانا مشکل ہو جائے گا۔یہ ایک دلیل دی گئی ہے، شاید اور بھی وجوہات ہوں گی۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ عمران خان کے بارے میں مولانا کوئی بھی مفاہمت کرنے کو تیار نہیں۔ اگر کوئی اور حکومت ہوتی،کوئی اور وزیر اعظم ہوتا تو شاید وہ اس طرح نہ کرتے، مگر مولانا فضل الرحمن کو عمران خان سے شدید نفرت ہے۔اس لیے وہ ان سے بات چیت بھی نہیں کریں گے۔ اس موقع پرسینئراینکر محمد مالک نے کہا کہ مولانا کی ایک انتہائی مقتدر شخصیت سے ملاقات ہوئی، اُنہیں بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ہٹا دیں، اس کے علاوہ جس کو مرضی بنا دیں۔تاہم مولانا کو واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اس طرح سے نظام نہیں چلتا اور اس طرح آپ کے کہنے سے تبدیلی نہیں ہو گی۔ سو انہیں یہ تو پتا چل گیا ہے کہ ایسے نہیں ہو گا۔ لیکن وہ سب کچھ صرف اس لیے داؤ پر لگا رہے ہیں کہ ان کی انا مجروح ہوئی ہے۔ اگر انا کا مسئلہ ہی ہے تو پھر مولانا نے ماضی میں ایسے کئی سمجھوتے کیے جن میں انا کا بڑا تعلق تھا۔ جس پر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ مولانا نے بہت سے سمجھوتے کیے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیرک سیاست دان ہیں۔یہ اس حد تک جاتے ہیں جہاں تک ممکن ہو اور پھر یہ واپسی بھی کرتے ہیں۔

جہاں تک عمران خان کو ہٹانے کا کام ہے، زیادہ کام خود انہی کی پارٹی کو کرنا پڑے گا۔ باقی جماعتیں ان کی علامتی حمایت کریں گے، لیکن میرے خیال میں وہ آخری حد تک نہیں جائیں گے۔یا درہے کہ آزادی مارچ میں 2ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…