کیا مولانا فضل الرحمن حکومت کی مخالفت اور اپوزیشن کے بڑے دھڑے پیپلز پارٹی کی عملی مدد کے بغیر لاک ڈاؤن جیسا مشکل کام کر سکیں گے؟ حکومت اب مولانا کے ساتھ کیا سلوک کرے گی؟ اپوزیشن کے احتجاج کا سلسلہ کب تک چلے گا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

  جمعرات‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2019  |  21:59

پوری اپوزیشن اس وقت مولانا فضل الرحمن اور ان کے لاک ڈاؤن کی طرف دیکھ رہی ہے لیکن آج وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کوئٹہ میں لاک ڈاؤن اور مولانا کے بارے میں ایک دل چسپ دعویٰ کر دیا،وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے گرفتاری والا کام کیا تو گرفتار کرینگے۔ میرا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد لانگ مارچ نہیں کرینگے، یہ بیانات حکومتی پالیسی ہیں اور اس پالیسی سے محسوس ہوتا ہے حکومت مولانا کو منائے گی یا پھر ڈرائے گی جبکہ بلاول بھٹو نے کل لاک ڈاؤن کے بارے میں


پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسی ایک بار پھر دے دی، کیا مولانا فضل الرحمن حکومت کی مخالفت اور اپوزیشن کے بڑے دھڑے پیپلزپارٹی کی عملی مدد کے بغیر لاک ڈاؤن جیسا مشکل کام کر سکیں گے، اپوزیشن نے آج اسمبلی کے اندر بھی احتجاج کیا اور باہر کیمپ میں بھی‘ یہ سلسلہ کب تک چلے گا اور آج آصف علی زرداری نے احتساب عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا، حکومت سب کو گرفتار کر لے‘ اپنا شوق پورا کر لے‘ مراد علی شاہ کو بھی پکڑ لے‘ یہ دھمکی ہے یا پالیسی؟

موضوعات:

loading...