بھارت کچھ بھی کرنے سے پہلے 27 فروری کو یاد رکھے، پاکستان کا بھارت کو واضح پیغام

  جمعرات‬‮ 8 اگست‬‮ 2019  |  14:54

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے حالیہ صورتحال پر بھارت کو طیارے مار گرانے اور پائلٹ کی گرفتاری یاد دلاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کچھ بھی کرنے سے پہلے 27 فروری کو یاد رکھے،بھارت سے مکمل سفارت تعلقات کا خاتمہ بھی زیر غور آپشنز میں شامل ہے،راہداری منصوبہ جاری رہے گا،پاکستان اپنی طرف سے کرتارپور راہداری میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ بھارتی فیصلوں سے افغان امن عمل متاثر نہیں ہوگا ،پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا،مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں میں موجود ہے، اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں


کے مطابق حل ہونا ہے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، بھارتی فیصلوں سے خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی،عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں بھارت کو اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلانے کا کہا ہے،بھارت کو بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنا ہائی کمشنر بھارت نہیں بھیجے گا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے بھارت کے غیرقانونی اقدامات کے مقابلے میں تمام ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے حالیہ بھارتی اقدامات کے بعد ملائشیا ، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک. کی قیادت سے رابطے کئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ وزیر اعظم نے ایک اعلی سطح کی کمیٹی وزیر خارجہ کی قیادت میں قائم کی ہے،کمیٹی حالیہ بھارتی اقدامات کے جواب کیلئے اپنی سفارشات دیگی۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ ایک ہفتے میں 12 کشمیری بھارتی کریک ڈائون اور محاصروں میں شہید کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نولاکھ افواج تعینات کی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے، انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ محاصرے کے باعث مقبوضہ کشمیر میں خوراک کی خاصی قلت کی صورتحال ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی فیصلوں سے خطے کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی،عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے۔ترجمان نے کہاکہ پاکستان کرتار پور منصوبے پر کام جاری رکھے گا ۔ پاکستان تمام مزاہب کی احترام کرتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ سیکریٹری خارجہ نے امریکی نمائندہ ایلس ویلز سے مختلف امور پر بات کی،افغان امن عمل اور کشمیر کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ملاقات میں سیکریٹری خارجہ نے جموں و کشمیر کے معاملے پر بھارت کی مسلسل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی اٹھایا،پاک امریکہ مذاکرات میں افغان امن عمل، ایف اے ٹی ایف،پاک امریکہ تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان نے کہاکہ ہمارا واضح موقف ہے کہ کشمیریوں کی بات سنی جائے،بھارت نے کشمیریوں کو گھروں میں بند کر دیا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت سے مکمل سفارت تعلقات کا خاتمہ بھی زیر غور آپشنز میں شامل ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ آئی سی جے کے سیکریٹری جنرل نے بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدامات کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بھارت کے جموں و کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دینے کے دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کے نایجنڈا ہر ہے اور متنازع علاقہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہانگ کانگ چین کا اندرونی معاملہ ہے،چینی اقدامات ہانگ کانگ میں امن و استحکام کی بحالی کیلئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکہ دونوں نے سفارتکاروں پر پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے،فیصلے سے دونوں ملکوں کے سفارتکاروں کی نقل و حرکت میں آسانی آئیگی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارت کی جانب سے گزشتہ کئی برس سے پاکستان سے بات چیت سے احتراز کیا جا رہا تھا،وزیر اعظم نے بھی اپنے خط میں بھارت سے تمام مسائل پر بات چیت کیلئے تیاری کا عندیہ بھی دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ یکم تاریخ کو کشمیر کمیٹی کو آنے والے حالات سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں امریکہ سے مزید رابطے بھی کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی چین جارہے ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہے اور ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ترجمان نے کہاکہ وزیر خارجہ کی رات گئے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم سے فون پر بات ہوئی ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ حافظ سعید کی رہائی کی خبر غلط ہے۔ ترجمان نے کہاکہ ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے بھارت کے طیارے گرانے اور پائلٹ کی گرفتاری یاد دلائی اور بھارت کو پیغام دیا کہ ہم مسلمان ہیں، ہمیں کسی چیز کا خوف نہیں ہوتا، خوف کا لفظ ہماری لغت میں نہیں لہٰذا کچھ بھی کرنے سے پہلے 27 فروری کو یاد رکھا جائے۔

موضوعات:

loading...