حکومت نے اربوں روپے مالیت کی 32بے نامی جائیدادوں کی ضبطگی کا عمل شروع کردیا،معروف بینک کی منظوری دینے والے سابق گورنر سٹیٹ بینک کیخلاف بھی کارروائی کا اعلان

  منگل‬‮ 16 جولائی‬‮ 2019  |  22:48

اسلام آباد (آن لائن ) حکومت نے بے نامی ایکٹ 2017 کے تحت اربوں روپے مالیت کی 32بے نامی جائیدادوں کی ضبطگی پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے،بے نامی جائیدادوں میں شوگر ملز کنسٹرکشن اور آٹو موبائل،ایگریگلچر،گیس،بجلی اور ویلفیئر سمیت بنک بھی شامل ہیں،تمام بے نامی جائیدادوں کے مالکان 60دنوں میں سامنے نہ آنے کی صورت میں انہیں بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا،سمٹ بنک کی منظوری دینے والے سابق گورنر اسٹیٹ بنک کے خلاف بھی کاروائی ہوگی، ریکوڈک کیس کے حوالے سے وزیر اعظم نے خصوصی کمیٹی قائم کردی ہے تمام معاملے کی چھان بین کرکے ذمہ داروں


کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے جہاز رانی علی زیدی اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت نے بے نامی ایکٹ 2017کے تحت اربوں روپے مالیت کے بے نامی جائیدادوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کردیا ہے اگر ان بے نامی جائیدادوں کے اصل مالکان سامنے نہ آئے توان کے اثاثے بحق سرکار ضبط کر لئے جائیں گے کی رقم قومی خزانے میں جمع کروائیں گے،انہوں نے کہا کہ کرپشن کرکے ملک کا پیسہ باہر بھیجا گیا ہے آج کے حالات کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ اور ملک کو لوٹا جانا ہے۔ علی زیدی نے کہا کہ عزیربلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ اس کوآصف زرداری نے استعمال کیا۔ سمٹ بینک بھی بینامی ہے۔سمٹ بینک کے شیئرز کو بھی سیل کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ عارف حبیب اوراٹلس بینک کو ضم کرکے سمٹ بینک بنایا گیا تھاکراچی کے بڑے بروکر نے روپالی بینک خریدا ناصر لوتھا نے بیان حلفی دیا ہے کہ بینک ان کا نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ایک صاحب نے16 پراپرٹیز پلی بارگین میں نیب کو دی ہیں بے نامی پراپرٹیز ضبط کی جائیں گی اور عوام کو بینامی جائیدادوں سے متعلق ہرروز آگاہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی اخبارمیں آیا کہ متاثرین کی امداد کا پیسہ بھی کھایا گیا۔10 سال تک وزیراعلیٰ رہنے والے نے زلزلہ زدگان کے پیسے کھائے۔ زلزلے کی امدادی رقم سے جائیدادیں خریدی گئیں۔ اگلی باری حدیبیہ کی ہے وہ بھی بے نامی ہے۔ اربوں روپے کی بے نامی جائیدادوں کو پکڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ 32 کمپنیوں کے اثاثے سیل کیے گئے ہیں۔کمپنیوں میں شوگرملزاور سیمنٹ فیکٹریاں بھی شامل ہیں۔ آصف زرداری کی بے نامی کمپنیوں کی تعداد 32 ہے۔ بے نامی جائیدادوں کی کوئی چیز نہ پیش کر سکے تو بیچ کررقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائیگی۔ اومنی گروپ، آصف زرداری کیخلاف جیآئی ٹی کی تفتیش پر کئی جائیدادیں اٹیچ کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کیپوش علاقوں میں بھی بے نامی پلاٹ سامنے آئے ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ ان لوگوں نے چھوٹے سے مقدمے کیلئے سابق اٹارنی جنرل کولندن بلا لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حسن، حسین، سلیمان شہباز اور علی عمران اشتہاری مجرم ڈکلیئر ہوچکے ہیں۔ حسن، حسین، سلیمان شہباز اور علی عمران واپس نہ آئے تو جائیدادیں ضبط ہوسکتی ہیں ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے کہاکہ سمٹ بنک کی منظوری دینے والے سابق گورنر اسٹیٹ بنک کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی انہوں نے کہاکہ جب2013میں اسٹیٹ بنک نے سمٹ بنک کو پیڈ اپ کیپیٹل جمع کرانے کا نوٹس دیا تو غیر ملکی زرمبادلہ کی بجائے مقامی بنک اکاؤنٹس کے زریعے پیڈ اپ کیپیٹل جمع کرایا گیاانہوں نے کہاکہ بے نامی جائیدادوں کے معاملے میں نیب حکام نے اب تک 4ریفرنسز بنائے ہیں جبکہ میرے اندازے کے مطابق ان معاملات میں 30سے زائد ریفرنسز بنتے ہیں انہوں نے کہاکہ ریکوڈک کے معاملے پر کمیٹی بنا دی گئی ہے اس میں جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

loading...