سیف الرحمن کا نیب بے حد طالم تھا ،آج نیب والے عزت دیتے ہیں،پیشی کے بعد منظور وٹو احتساب ادارے کے گن گانے لگے

20  مئی‬‮  2019

لاہور( این این آئی) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو نے اپنے دور میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہو کر سوالات کے جوابات جمع کرادئیے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منظور وٹو نے کہا کہ سیف الرحمن کا نیب بھی دیکھا اور آج کا نیب بھی دیکھ رہا ہوں اور دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔

سیف الرحمن کا نیب بے حد طالم تھا اور آج کا نیب بہت بہتر ہے ،نیب والے بہت عزت دیتے ہیں۔سیف الرحمن کا نیب برائی کا نیب تھا آج کا نیب اچھائی کا نیب ہے ۔سیف الرحمن نے ایک جج صاحب کے گھر جا کر آصف زرداری اور بینظیر کو سزا دلوانے کے اقدامات کئے تھے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کی جانب سے کاروباری طبقہ کے ساتھ تعاون اور خواتین کو طلب نہ کرنے کا بیان قابل ستائش ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس دور میں میرے خلاف کوئی منی لانڈرنگ کا کیس نہیںبنا ۔میرے خلاف ملازمتیں دینے کا کیس بنایا گیا،آج حکمران کہہ رہے ہیں کہ ایک کروڑ نوکریاںگے جبکہ میں نے لوگوں کو نوکریاں دیں۔۔نیب کو بتایا ہے میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا،آج بھی ہر سال یوٹیلیٹی سٹورز کے ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع دی جاتی ہے،اگر بے ضابطگی ہے تو بے شک توسیع نہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملک کسی بڑے احتجاج کا متحمل نہیں ہو سکتا ،سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کو قومی اور معاشی معاملات پر بات کرنی چاہیے ۔انتقامی کارروائی کی بجائے تمام لوگوں کو مل بیٹھ کر کام کرنا ہوگا۔

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…