بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

دوا ساز کمپنیوں کا 395 ادویات کی قیمتوں میں کمی کرنے سے انکار

datetime 14  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ایک طرف عوام ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں تو دوسری جانب دوا ساز کمپنیوں نے 395 ادویات کی قیمتوں میں کمی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ انکشاف سیکرٹری قومی صحت کی جانب سے گزشتہ روز فسینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں کیا گیا۔

انہوں نے اجلاس میں بتایا کہ دواساز کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی کے بجائے سندھ ہائیکورٹ سے اسٹے لے لیا ہے۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ حکومت قیمتیں کم نہ کرنے والی دواساز کمپنیوں کے خلاف ڈرگ کورٹ میں جائے گی اور دواساز کمپنیوں سے چار ماہ میں کمایا گیا منافع بھی واپس لے گی۔ سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کرتی ہے۔ادویات کی قیمتوں کے تعین میں ڈریپ کے سربراہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں ہوا۔وفاقی سیکرٹری قومی صحت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سیکرٹری صحت نے قائمہ کمیٹی برائے وزارت قومی صحت کو بتایا کہ ادویات کی قیمتوں میں گذشتہ اضافہ 2001ء میں کیا گیا تھا۔ 2013ءمیں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے فیصلہ واپس لے لیا گیا جس پر دواساز کمپنیوں نے عدلیہ سے رجوع کیا۔ سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ادویات کی قیمتوں بارے دس ہفتوں میں فیصلہ کرنے کے احکامات جاری کئے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے دواساز کمپنیوں کو 395 ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

ڈریپ کی جانب سے ہارڈ شپ کوٹہ والی 464 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ جبکہ 30 ادویات کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ سیکرٹری صحت کے مطابق 40 ہزار ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا۔ سیکریٹری قومی صحت نے یہ انکشاف بھی کیا کہ دواساز کمپنیوں نے 395 ادویات کی قیمتوں میں کمی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔دواساز کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی کے بجائے سندھ ہائیکورٹ سے اسٹے لے لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…