بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

آئی ایم ایف پاکستان کوسوا تین سال میں چھ ارب ڈالر دے گا،کیا واقعی حکومت نے ملک کی سالمیت‘ وقار اور آزادی گروی رکھ دی ہے؟یہ پیکج دراصل ہے کیا؟اس کے فیچرز کیا ہیں؟کون سے تین اہم اداروں کو فروخت کردیاجائے گا؟جاوید چودھری کے انکشافات‎

datetime 13  مئی‬‮  2019 |

آپ نے پنجابی کا وہ لطیفہ سنا ہو گا جس میں کوئی شخص ماتھے پر گولی لگنے سے مر جاتا ہے اور اس کی ہمسائی آسمان کی طرف منہ کرکے کہتی ہے یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ اس بے چارے کی آنکھ بچ گئی‘ آئی ایم ایف پاکستان کوسوا تین سال میں چھ ارب ڈالر دے گا‘ حکومت اس پیکج پر ہماری آنکھ بچ گئی کے نعرے لگا رہی ہے‘ اپوزیشن کے بقول حکومت نے ملک کی سالمیت‘ وقار اور آزادی گروی رکھ دی ہے جبکہ عوام کبھی بے چارے کی لاش دیکھتے ہیں‘

پھر کبھی آنکھ بچنے کا جشن منانے والوں کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر کبھی گروی رکھنے کا غم منانے والوں پر نظر ڈالتے ہیں اور پھر پریشان ہو جاتے ہیں‘ یہ پیکج ہے کیا ہم اس کے کچھ فیچرز آپ کے سامنے رکھتے ہیں‘ آئی ایم ایف پاکستان کو 39 ماہ میں قسطوں میں چھ ارب ڈالر دے گا‘ حکومت کو پیکج لینے سے پہلے 800 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانا پڑیں گے‘ ہمیں اس پیکج کے بعد ایران پاکستان گیس پائپ لائین کا منصوبہ ہمیشہ کیلئے بند کرنا پڑے گا‘ حکومت ڈالر کنٹرول نہیں کر سکے گی‘ یہ مزیدمہنگا ہو گا‘ گیس‘ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا‘ حکومت تمام سبسڈیز واپس لے لے گی‘ سٹیل مل‘ پی آئی اے اور ریلوے فروخت کر دیا جائے گا‘ ٹیکسوں میں اضافہ ہو گا‘ بے روزگاری اور مہنگائی بھی بڑھ جائے گی لیکن اس کے باوجود آئی ایم ایف ہر تین ماہ بعد حکومت کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا اور یہ اگر مطمئن نہ ہوا تو ہمیں اگلی قسط نہیں ملے گی‘ حکومت کا خیال تھا آئی ایم ایف کے پیکج کے ساتھ ملک میں معاشی استحکام آ جائے گا لیکن آپ 12 گھنٹے بعد کی صورت حال دیکھ لیجئے‘ ڈالر کی قیمت ایک روپیہ بڑھ گئی‘ سٹاک ایکس چینج 816 پوائٹ نیچے آ گئی‘ یہ پچھلے تین برس کی بدترین سطح پر ہے‘ سٹاک ایکس چینج میں صرف ایک دن میں ایک سو اکیاسی ارب روپے اڑ گئے ہیں لہٰذا آپ خود فیصلہ کیجئے ہمیں اس پیکج پر ماتم کرنا چاہیے یا تالی بجانی چاہیے یا پھر آنکھ بچ جائے پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینی چاہیے‘ اپوزیشن چاہتی ہے حکومت یہ پیکج قومی اسمبلی میں ڈسکس کرے‘ حکومت یہ کیوں نہیں کرتی‘ آخر ڈر کس چیز کا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…