ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

سابق ن لیگی وزیر شیخ روحیل اصغر گزشتہ حکومت میں 10ہزار بل ادا کرتے اب اتنے ہی استعمال پر 1کروڑ12لاکھ بل کیوں بھر رہے ہیں؟ فیصل واوڈاکرپشن کی نئی کہانی سامنے لے آئے

datetime 11  اپریل‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی پروگرام میںگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ( ن) لیگ کے ایم این اے اور سابقہ حکومت کے وزیرشیخ روحیل اصغر گزشتہ حکومت میں صرف دس ہزار روپے بل دیا کرتے تھے جبکہ اب وہ اتنے ہی استعمال پر ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے بل ادا کرتے ہیں۔

آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ اتنا زیادہ بل ادا کرتے ہیں ،یہ ان کی کرپشن ہے۔وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ آپ گزشتہ حکومت کے ظلم کا اندازہ لگائیے کہ وہ کس قدر لوٹ مار کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ بجلی ،گیس اور دوسری چیزوں پر بھی ہمیں قرضوں کے بوجھ تلے ڈال کر چلے گئے ہیں۔اب ہم وہ قرضہ اتاریں یا عوام کو ریلیف دیں۔بہرحال حکومت سسٹم کی بہتری میں لگی ہوئی ہے پہلے ہم قرض اتار لیں پھر عوام کو بھی ریلیف دینے کی کوشش کریں گے اور آہستہ آہستہ وہ وسائل بھی اکٹھے ہو رہے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے عام آدمی کی صورت حال بہتر ہو گی اور ملک میں روزگار کے بھی مواقع پیدا ہوں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کے وزرا کی عیاشیاں اس قدر تھیں جس نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے ادھ موا کر ڈالا ہے اور اس سے نپٹنے کے لیے ہمیں سخت اقدامات کرنا ہیں جو کہ ہم کر رہے ہیں۔شیخ روحیل اصغر تو ایک کیس ہے جو ایک کروڑ کے بل کی جگہ دس ہزار روپے کا بل دیتا تھا اس قسم کی کئی اور ہوشربا کہانیاں منظر عام پر آنا بھی باقی ہیں۔واضح رہے کہ اس سے پہلے وفاقی وزیر فیصل واڈا نے انکشاف کیا تھا ہفتے دس دن میں ملک میں نوکریاں زیادہ ہو جائیں گی اور نوکریوں کے خواہش مند کم پڑ جائیں گے۔

چند ہفتوں میں حالات اتنے اچھے ہو جائیں گے کہ پان سگریٹ والے بھی آکر کہیں گے کہ آ ہم سے ٹیکس لے لو۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا غیب کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے، وہ غیب کا کچھ نہیں بتا سکتے، حمزہ شہباز کی گرفتاری کے معاملے کی منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم ٹیکس میں تاجروں کو آسانیاں دیں گے تو پوری دنیا سے پاکستان بزنس آئے گا جب حکومت ترقی کے لئے سخت فیصلے لیتی ہے تو احتساب و ٹیکس کا نظام واضح کام کرتا ہے، اداروں کے اندر بھی ہم نے ن لیگ کے لوگ پکڑے ہیں جو حکومت کو کمزور کر رہے تھے ۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…