پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اٹھارہ سال کی عمر میں اس ملک میں گیا تو وہاںدیکھا کہ۔۔۔ عمران خان نے تبدیلی کا آئیڈیا کہاں سے لیا؟ وزیراعظم ہائوس کی جگہ یونیورسٹیبنانے کے پیچھے راز کیا ہے؟ کپتان نے دلچسپ انکشاف کر دیا

datetime 21  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ہا ئو س جیسے بڑے گھر غلامی کے دور کی نشانیاں ہیں،انہیں ختم کرنا چاہتے ہیں، بچپن سے ہی گورنر ہاسز اور حکمرانوں کے بڑے گھر دیکھے، برطانیہ میں حکمرانوں کی رہائش دیکھ کر میرے ذہن میں تبدیلی آئی، 10 ڈاننگ اسٹریٹ میں سادہ سی عمارت میں ٹونی بلیئر کا گھر تھا، جب آزادی ملی تو تعلیم کے شعبے

پر کسی نے توجہ نہیں دی، نوجوان طبقہ ٹیکس کے پیسے کے غلط استعمال پر آواز اٹھائے، عوام کو باشعور بنا رہے ہیں، مدینہ کی ریاست میں حکمرانوں نے پیسہ اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا،ہمارے حکمران عالیشان محل میں رہتے ہیں، وزیر اعظم ہا ئو س کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا مقصد حکمران اور عوام میں فاصلہ کم کرنا ہے۔جمعہ کو وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بچپن سے گورنر ہائوس لاہور کی دیواریں دیکھتا آرہا تھا، جب میں اٹھارہ سال کی عمر میں انگلینڈ گیا تو وہاں جا کر میں نے حکمرانوں کی طرز زندگی دیکھا تو میرے اندر تبدیلی آئی، ہمیں جب آزادی حاصل ہوئی تو عوام کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی گئی، افغانستان اس وجہ سے ترقی نہیں کرسکا کیونکہ وہاں کسی کو سپیریئر نہیں مانا جاتا، ہم افریقہ ملک سے مل چکے ہیں، کالونی ازم کی وجہ سے افغانستان میں ترقی نہ ہو سکی، دنیا میں سب سے زیادہ غریب ہندوستان میں بستے ہیں جو بھی ٹیکس کے پیسے کا غلط استعمال کرے اس کے خلاف بولنا چاہیے، پاکستانی نوجوانوں کو اپنے ٹیکس کے پیسے کے غلط استعمال پر بولنا چاہیے، ہم اپنی عوام کو آگاہی دیں گے، مدینہ کی ریاست میں سادگی کی پالیسی تھی، اگر میں ملک کا سربراہ بنتا ہوں تو ذمہ داری لے کر بنتا ہوں، تعلیم سے زیادہ کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی، ہمارے حکمران عالیشان محلات میں رہتے ہیں، تعلیم کے بغیر ملک

آگے نہیں بڑھ سکتا ہے، سنگاپور آج ترقی یافتہ ملک تعلیم کے میدان سے ہی بنا، آج چین کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے،چین آج ہماری آنکھوں کے سامنے آگے بڑھا، یونیورسٹی بنانے کا مقصد عوام کو قبضہ درست کرنے کا پیغام ہے، تعلیم کے بغیر معاشرہ کبھی نہیں چل سکتا، جب میں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنایا کہا جاتا تھا کہ غریب کیسے علاج کرائے گا، شوکت خانم آج میرٹ پر چلنے والا ادارہ ہے،

خلیفہ ہارون الرشید نے بیت الحکمہ بنایا تھا، یہ پہلا ریسرچ سینٹر تھا، ہمارے بہترین کارکردگی والے لوگ آج ملک سے باہر بیٹھے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ ملک میں معاشی بحران ہے، قوموں کی زندگیوں میں اونچ نیچ آتی ہے، جس بڑے ڈاکو سے پیسہ پکڑیں گے اسے تعلیم پر خرچ کیا جائے گا، وزیراعظم ہائوس بنانے کا مقصد عوام اور حکمران کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہے، ملک کی معاشی صورتحال بہت جلد بہتر ہو جائے گی، عظیم لیڈر پیغمبرؐ نے تعلیم پر ہمیشہ زور دیا ہے، ٹین ڈائوننگ اسٹریٹ میں سادہ سی عمارت میں ٹونی بلیئر کا گھر تھا۔(اح)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…