جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

یہ کام افغانستان خود کرے، پاکستان نے امریکی مطالبات کے بعد سخت موقف اپنا لیا،دھماکہ خیز اعلان

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی کوبتایا گیا ہے کہ پاکستان یمن تنازعہ کے حل کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا ٗ افغانستان کے تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ٗ افغانستان خود سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرے۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 10 اپریل 2015ء کو پارلیمنٹ کی قرارداد کی روشنی میں یمن تنازعہ میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی وزیراعظم نے 24 اکتوبر 2018ء کو اپنے خطاب میں پیشکش کی ہے۔

پاکستان عالم اسلام کے تمام ممالک کے ساتھ قریبی اور دلی تعلقات رکھتا ہے ٗہم اس پر یقین رکھتے ہیں ‘ یمن تنازعہ کے حل کے لئے تمام جماعتوں کے مابین بین الیمنی مذاکرات کرائے جائیں۔ پاکستان نے ہمیشہ امت مسلمہ کے مابین امن و مفاہمت کے لئے کوششیں کی ہیں اور اس ضمن میں بھی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ دونوں جانب سے قابل قبول ہونے کی صورت میں ہم دو برادرانہ ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ شمس النساء کے افغان طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے حکومت کی پالیسی سے متعلقہ سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں امن سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوتا ہے اور اسی طرح افغانستان میں بدامنی سے پاکستان زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان میں اقتصادی ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے افغانستان میں امن اور استحکام کا ہونا ضروری ہے۔ افغانستان کے تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں۔ واحد قابل عمل حل یہ ہے کہ افغانستان خود سیاسی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے لئے کوششیں کی ہیں۔ اور اس بات پر زور دیا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور کسی ایک ملک سے یہ کام انجام دینے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔

اسی جذبے کے تحت پاکستان نے جولائی 2015ء میں مری امن مذاکرات کا اہتمام کیا تاہم ملا عمر کی ہلاکت کی خبر افشاں ہونے پر امن مذاکرات ترک کردیئے گئے۔ پاکستان نے امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے ضمن میں طالبان کو راضی کرنے کے لئے چار طرفہ معاونتی گروپ (کیو سی جی) کے ذریعے اہم کردار ادا کیا تاہم مذاکرات شروع ہونے سے چند دن قبل ملا اختر منصور کے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے کی بناء پر امن عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔ تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پاکستان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر ایک موثر اور متحرک پالیسی رکھتا ہے جس کا مقصد افغانستان میں امن و استحکام بشمول یو این ایشیا کا قلب استنبول عمل‘ چار جہتی تعاون گروپ (کیو سی جی) ایس سی او رابطہ گروپ بابت افغانستان ‘ کابل عمل‘ ماسکو تشکیل اور تاشقند کانفرنس جو کہ افغانستان میں امن کی بابت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…