اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

’’ہم مے خانے میں پہلے مفت کی پیتے تھے ، پھر سرکار کی پیتے رہے ، پھر ادھار کی پیتے رہے ، اب بھیک میں بھی کوئی دینے کو تیار نہیں ‘‘ ملک چلانے کیلئے پیسے نہیں لوگوں کو ریلیف کہاں سے دیں؟ الیکشن سے پہلے بلند و بانگ دعوے کرنیوالی پی ٹی آئی حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دئیے

datetime 14  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)’’ہم مے خانے میں پہلے مفت کی پیتے تھے ، پھر سرکار کی پیتے رہے ، پھر ادھار کی پیتے رہے ، اب بھیک میں بھی کوئی دینے کو تیار نہیں ‘‘۔ یہ باتیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں ملک بھر سے آئے ہوئے سینئر صحافیوں سے خصوصی ملاقات میں کہیں ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں عیاشی کی عادت نے تباہ کر دیا، ہمارے سیاستدانوں نے کبھی خود کو سنبھالنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

صحافیوں کے ایک سوال پر تحریک انصاف کی حکومت کے چند سخت اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ معیشت کی حالت خراب سے خراب تر ہو رہی ہے ۔ مہنگائی کے باعث عوام پریشان ہیں لیکن لوگوں کو یہ سمجھنا ہو گا ہمارے حکمران سرکاری خزانے سے عیاشیاں کرتے رہے ۔ اب حالت یہ ہے کہ لوگ قربانی دینے کو تیار نہیں ۔ ہمارے منہ کو لگی ہوئی چھوٹ نہیں رہی۔ صورت حال یہ ہے کہ کوئی ہمیں قرضہ دینے کو بھی تیار نہیں ۔ انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کر کے پوچھا کہ جب خرانہ ہی خالی ہے تو ہم معاملات ریاست کیسے چلائیں ۔ عوام کو ریلیف کہاں سے دیں ۔ ہمیں احساس ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہوئی تو آگے کوئی راستہ نہیں ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس ساری صورت حال کے باوجود ہمیں پرامید رہنا چاہئے کہ حالات جلد درست ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات اور بھی ہے کہ حالات اتنے خراب نہیں جتنا پینک پھیل گیا ہے ۔ ہمارے پاس حالات کے سدھارنے کے دو رہی راستے ہیں ایک یہ کہ لوٹی ہوئی دولت واپس خزانے میں ڈالیں اور دوسرا نظام چلانے کے لئے مصلحت کے تحت آئی ایم ایف اور دوسرے دوستوں سے قرضے لیں ۔ ہم بیک وقت دونوں کام کر رہے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ میں اردو زبان میں خطاب کر کے اپنا پیغام براہ راست اپنی قوم کو پہنچایا ۔ لوگوں کو کشمیر کا ایشو پتہ ہی نہیں ۔

میری اردو تقریر سے لوگوں کو مسئلہ کشمیر سمجھنے میں مدد ملی ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کے دور میں کوئی جمہوری حکومت صحافت کو دبانے کی جرات نہیں کر سکتی ۔ سوشل میڈیا بہت فاسٹ ہے آپ نہ خبر دبا سکتے ہیں نہ سنسر شپ عائد کر سکتے ہیں ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حکومت میڈیا کو دباؤ میں لا رہی ہے وہ غلط کہتے ہیں ۔ میڈیا کو دبانا ممکن ہی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں سیاسی حکومتوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ۔ قرضے لے کر شاہانہ اخراجات کئے اب کوئی ہمیں قرض دینے کو بھی تیار نہیں ۔ ہمیں خود ہی اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہو گا ۔ نجات کا واحد راستہ یہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…