جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے افغان سرحد پر 48ارب روپے سے ایسی چیز تعمیر کرنا شروع کردی کہ دشمنوں کی نیندیں اڑ گئیں

datetime 19  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمسایہ ملک افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے لیکن اب اس کا اختتام ہونے کے قریب ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی 1500 میل پر محیط سرحد پر 48 ارب روپے کی لاگت سے باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد دہشتگردوں کی دراندازی کو روکنا ہے۔ یہ باڑ لگانے کا فیصلہ گزشتہ ایک سال سے جاری آپریشن کے بعد سامنے آیا جس کے

دوران شمالی اور جنوبی وزیرستان سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔یورو نیوز کے مطابق پاک فوج نے رواں ماہ صحافیوں کو سرحدی علاقے کا دورہ کروایا جس کے دوران پاک آرمی کے بریگیڈیئر نثار کا کہنا تھاہمارے ملک اور قوم کی بہتر سکیورٹی کےلئے ہمیں یہ کام کرنا تھا۔ افغان حکومت نے اس باڑ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کا موقف ہے کہ اس کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں آباد قبائل دو حصوں میں بٹ جائیں گے۔اس منصوبے پر کام کا آغاز گزشتہ سال ہوا جس میں دو شاخی بلند باڑ کی تعمیر کی جا رہی ہے جو دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہیں۔ افغانستان کی جانب اس باڑ کی اونچائی 13 فٹ جبکہ پاکستان کی جانب 11 فٹ ہے۔ باڑ کے ساتھ ساتھ نگرانی کے لئے ٹاور بھی تعمیر کئے جارہے ہیں۔امید کی جارہی ہے کہ 2019ءکے اختتام تک سرحد کے 92 فیصد حصے پر باڑ لگائی جاچکی ہوگی۔ مکمل ہونے پر اس باڑ کی کل لمبائی 516 میل ہوگی جس میں سے تقریباً 146 میل کا حصہ پہلے ہی مکمل کیا جاچکا ہے۔ سرحد کے کچھ علاقے جو غیر معمولی حد تک دشوار گزار ہیں ان پر باڑ نہیں لگائی جائے گی۔واضح رہے کہ پاکستان  میں ہونے والی دہشتگردی کے بیشتر واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…