جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

عمران خان نے آئندہ فیصل آباد میں توہین آمیز زبان استعمال کی تو کارکن انکی ٹھکائی کر سکتے ہیں،رانا ثناء اللہ

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (آن لائن) صوبائی وزیر قانون اور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اگر آئندہ فیصل آباد کے کسی عوامی اجتماع میں اب دوبارہ اس قسم توہین آمیز زبان استعمال کی تو ان کے حلقے کے کارکن عمران خان کی ٹھکائی کر سکتے ہیں اور ایسی صورت حال میں وہ اپنے کارکنوں کو نہیں روک سکیں گے۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں

کے رہنماؤں کو اس قسم کی زبان استعمال کرنے سے باز رہنا چاہیے اور ایسے ماحول کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے بصورت دیگر ملک میں سیاسی حالات انہیں کوئی اچھے نظر نہیں آ رہے جس سے سب سے زیادہ نقصان عمران خان کا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کبھی عمران خان دوبارہ فیصل آباد آیا تو ان کے حلقے کے لوگ انہیں جوتے ماریں گے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محمد رمضان ان کے حلقے کا لیگی کارکن ہے جس پر محمد رمضان سے منسوب کر کے غلظ الزام لگایا گیا کہ میں نے یا میرے بیٹے نے محمد رمضان کو پی ٹی آئی کے جلسے میں بھیجا تھا۔ رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ محمد رمضان جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کارکن ہے اپنے گھر میں بیٹھے میاں نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقعے سے دل برداشتہ ہو گیا اور وہ گھر سے نکل کر پی ٹی آئی کے اجتماع میں چلا گیا جس نے عمران خان سے بدلہ لینے کی غرض سے پی ٹی آئی کے چیئرمین پر جوتا پھینکنا چاہا مگر وہ ایسا نہ کر سکاکیونکہ اس کے پاس جوتا ہی نہیں تھا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انہوں نے جب محمد رمضان سے رابطہ کیا تو محمد رمضان نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جوتا پھینکنے کے واقعہ کے بعد اسے گھیر لیا اور محمد رمضان سے یہ بیان دلوانے کیلئے کہ اسے رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے اجتماع میں بھیجا ہے کہ اس نے رانا ثناء اللہ کے کہنے پر عمران خان پر جوتا پھینکا تھا پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا حالانکہ محمد رمضان نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی اس نے ازخود عمران خان پر جوتا پھینکا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…