ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا انہوں نے اتنا شور نہیں مچایا جتنا انہوں نے احد چیمہ کی گرفتاری پر مچایا، آخر کونسی دکھتی رگ ہے، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔‘‘ احد چیمہ کی گرفتاری پر پنجاب حکومت کے شور شراب پر معروف صحافی کا تبصرہ، حیرت انگیز انکشافات

datetime 26  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و کالم نویس ایاز امیر نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہاں دباؤ کون ڈال رہا ہے کیا نریندر مودی دباؤ ڈال رہا ہے کہ آپ میٹنگز میں آئیں، دباؤ ڈالنے والا صرف ایک شخص ہے اور وہ صوبائی حکومت کا چیف ایگزیکٹو شہباز شریف ہے۔ سینئر صحافی ایاز امیر نے کہا کہ جب میاں شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں نیب کی جانب سے نوٹس جاری ہوا تھا تو انہوں نے پریس کانفرنس کی اور بے حال ہوتے ہوئے کہا کہ ہمیں بلایا جا رہا ہے اور یہ کیا جا رہاہے،

سینئر صحافی نے مزید کہا کہ اب یہ کچھا چٹھا کھل رہا ہے اور صرف اس لیے کھلا ہے کہ نیب اب صحیح معنوں میں ٹھیک راستے پر چل رہی ہے جب سے نیب کی قیادت تبدیل ہوئی ہے۔ ایاز امیر نے کہاکہ جب سابق چیئرمین نیب قمر زمان کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو ان کی بدقسمتی شروع ہو گئی، ان کی اور بدقسمتی یہ تھی کہ چیئرمین نیب کے لیے اور نام بھی دیے گئے تھے مگر جسٹس جاوید اقبال جیسے دیانت دار اور قابل شخص کو منتخب کر لیا گیا، جسٹس جاوید اقبال نے نیب میں آ کر کہا کہ جو پرانے کیس ہیں وہ نمٹائے جائیں، انہوں نے کہا کہ جو کیس سرد خانے میں رکھے ہوئے ہیں ان کو نمٹائیں، سینئر صحافی ایاز امیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ کا کیس تو تین سال پہلے سے پڑا ہوا تھا، انہوں نے آ کر ایجاد نہیں کیا، جسٹس جاوید اقبال نے تو صرف اتنا کہا کہ اس پر آپ کارروائی کریں۔ سینئر صحافی نے کہا کہ احد چیمہ اور شہباز شریف کو بلایا گیا ہے ان کو سزا تو نہیں ہوئی، پوچھ گچھ کی ایک کارروائی شروع ہے لیکن اس پر انہوں نے اتنا زیادہ شور مچایا ہے، جب نواز شریف وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے نااہل قرار پائے تو اس وقت بھی انہوں نے اتنا شور نہیں مچایا، پارٹی صدارت کا معاملہ آیا انہوں نے اس وقت بھی اتنا شور نہیں مچایا لیکن احد چیمہ کے معاملے پر بہت زیادہ شور مچایا جا رہا ہے آخر احد چیمہ کون سی دکھتی رگ ہے، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…