ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

آسٹریا میں تعینات پاکستانی سفارتی اہلکار خفیہ معلومات کیساتھ غائب

datetime 24  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) آسٹریا کے پاکستانی سفارتخانے میں پانچ ماہ قبل کلرک کی حیثیت سے تعینات کیا گیا اہلکار حساس دستاویزات کے ساتھ غائب ہو گیا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ ملک دشمنوں کا آلہ کار بن گیا ہے۔وزارت دفاع کی مدعیت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 109 اور 409 کے تحت ترنول پولیس اسٹیشن میں اہلکار کی گمشدگی اور دستاویزات کے غائب ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق شاہراہ خربوزہ کا رہائشی جسے گزشتہ سال آسٹریلیا کے شہر ویانا میں پاکستانی سفارتخانے میں کلرک تعینات کیا گیا۔ انہیں وزارت دفاع کی جانب سے حساس نوعیت کا کام سونپا گیا تھا۔انہیں وہاں پر چند اہم اور خفیہ قومی معاملات کا آفیشل انچارج مقرر کیا گیا تھا، یہ بہت اہم کام ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی سالمیت کیلئے بھی بہت حساسیت کا حامل ہے۔ایف آئی آر میں کہا گہا ہے کہ مذکورہ آفیشل رواں سال دو جنوری سے اپنی ڈیوٹی سے غیرحاضر پایا گیا اور جب سفارتخانے کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو حساس معلومات کی حامل دستاویزات بھی غائب تھیں۔اپنی گمشدگی کے بعد اس شخص نے اپنے اہلخانہ سے رابطہ کیا اور اپنی بیوی کو کہا کہ وہ اسلام آباد کے ترنول کے علاقے میں واقع اس کے والدین کے گھر میں منتقل ہو جائے۔سفارتخانے کے مذکورہ اہلکار کی بیوی کے مطابق ان کے شوہر نے اپنی مرضی سے سفارتخانے کو چھوڑا اور وہ پانچ سال بعد واپس آ جائیں گے۔ایف آئی آر کے مطابق ابھی تک مذکورہ شخص نے محکمے یا ویانا میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کر کے اپنے ٹھکانے کے حوالے سے نہیں بتایا اور اس کی بیوی، والدین اور بھائی اس سے رابطے میں تھے لیکن انہیں پولیس سے اس کی معلومات شیئر کرنے سے گریز کیا ہے۔تھانے میں درج فرسٹ انویسٹی گیشن رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ شاید مذکورہ شخص ملک دشمنوں کا آلہ کار بن گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں پولیس آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزارت دفاع نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحقیقات اور اہلکار کے اہلخانہ سے تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ٹھکانے کا پتہ لگا کر گرفتار کیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…