ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچتے رہیں تو جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ،عوام کی بہتری کیلئے فوج کو جو کرنا پڑے گا کریں گے،ترجمان پاک فوج نے اہم ترین اعلان کردیا

datetime 22  جنوری‬‮  2018 |

راولپنڈی(این این آئی) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت چلنا ضروری ہے اگر جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچتے رہیں تو جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں،وقت پر انتخابات الیکشن کمیشن کو کرانے ہیں ،آئینی حدود میں انتخابات سے متعلق جو بھی احکامات ملیں گے اس پر عمل درآمد کریں گے، بھارتی جارحیت کا سرحد پر بھرپور جواب دیا جارہاہے، کوئی مس ایڈونچر ہوگا تو اس کا جواب دینگے اور دیا جاتا رہے گا،

مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد بھارت کے قابو سے باہر ہورہی ہے ،ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا ایک مقصد مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ،دوسرا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہماری توجہ ہٹانا ہے، پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کا الزام بے بنیاد ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک میں جمہوریت چلنا ضروری ہے اگر جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچتے رہیں تو جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی جمہوریت کے حامی ہیں انہوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں اسی لئے وہ سینیٹ میں جانیوالے پہلے آرمی چیف بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت پر انتخابات الیکشن کمیشن کو کرانے ہیں البتہ آئینی حدود میں انتخابات سے متعلق جو بھی احکامات ملیں گے اس پر عمل درآمد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کا سرحد پر بھرپور جواب دیا جارہاہے۔بھارت نے کئی بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مس ایڈونچر ہوگا تو اس کا جواب دیں گے اور دیا جاتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد بھارت کے قابو سے باہر ہورہی ہے جبکہ ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا ایک مقصد مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا اور دوسرا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہماری توجہ ہٹانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں استحکام بہت ضروری ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فوج عوام کی فوج ہے اور عوام کی بہتری کیلئے فوج کو جو کرنا پڑے گا کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…