ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکینڈل: چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا

datetime 19  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (آ ئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے سے 10 روز میں رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ اسکینڈل سے ہمارے سر شرم سے جھک گئے،جعلی ڈگری سے متعلق خبروں سے پاکستان عالمی سطح پر بدنام ہورہا ہیڈی جی ایف آئی اے ایگزیکٹ اسکینڈل کی مفصل رپورٹ عدالت میں پیش کریں، خبریں سچی ہیں تو اس اسکینڈل کا تدارک ہونا چاہیے،

اگر خبریں جھوٹی ہیں تو پاکستان اپنا دفاع کرے ۔ جمعہ کو چیف جسٹس پاکستان نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ایگزیکٹ کے جعلی ڈگری اسکینڈل کا از خود نوٹس لیا اور کیس سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سے 10 روز میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے کیس کی کتنی ایف آئی آر درج ہوئیں، اس میں کیا پیشرفت ہوئی اور کیا فیصلے آئے۔چیف جسٹس پاکستان نے از خود نوٹس کی کھلی عدالت میں سماعت کرنے کا اعلان کیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت دی کہ ڈی جی ایف آئی اے جعلی ڈگری سے متعلق مہم کا پتاچلائیں، ڈی جی ایف آئی اے ایگزیکٹ اسکینڈل کی مفصل رپورٹ عدالت میں پیش کریں، خبریں سچی ہیں تو اس اسکینڈل کا تدارک ہونا چاہیے، اگر خبریں جھوٹی ہیں تو پاکستان اپنا دفاع کرے ۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اسکینڈل سے ہمارے سر شرم سے جھک گئے، جعلی ڈگری سے متعلق خبروں سے پاکستان عالمی سطح پر بدنام ہورہا ہے، ملک کی بدنامی کرنے والا کوئی بچ کر نہیں جائے گا۔معزز جج نے کہا غالبا جعلی ڈگری اسکینڈل کا معاملہ پہلے بھی منظرعام پر آیا تھا، جعلی ڈگری اسکینڈل سیمتعلق مقدمات عدالتوں میں زیرالتوا بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…