ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پنجاب میں جنسی زیادتی کے واقعات میں ہوشرباء اضافہ،صرف لاہور میں زیادتی کا شکار ہونے والی سینکڑوں خواتین عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور،کتنے کیسز زیر التواء ہیں؟چونکادینے والے انکشافات

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور میں زیادتی کا شکار ہونے والی 205 بنت ہوا کی بیٹیاں انصاف کی منتظر، جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین حصول انصاف کیلئے عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہوگی۔ خواتین ہمارے معاشرے کی باعزت مقام رکھتی ہیں۔ مگر ہمارے

معاشرے میں موجود چند درندہ صفت نما انسانوں نے خواتین کا جینا حرام کررکھا ہے لاہورمین خواتین کے ساتھ زیادتی اور جنسی تشدد کے واقعات مین روزبروزاصافہ ہونے لگا ہے۔سیشن عدالت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے 205 کیسز زیر سماعت ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نطر ملزمان کو جلد سزائیں سننے کے لیے پنجاب کی پہلی ضفی تشدد کورٹ کا افتتاح کیا۔پنجاب کی پہلی خواتین صنفی تشدد کورٹ میں 100 کے قریب کیسز التوا کا شکار ہیں۔جنسی تشدد کی خصوصی عدالت نے 35کیسز میں فرد جرم عائد کر رکھی ہے۔سیسن عدالت میں گزشتہ ایک سال میں خواتین سے زیادتی اور تشدد کرنے والے ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ہوئی۔سیشن کورٹ میں مشہور کیسز میں مسلم لیگی رہنما عدنان ثناء اللہ کی لڑکی سے زیادتی کا کیس بھی التوا کا شکار ہے جبکہ پنجاب یونیورسٹی میں قانون کی طالبہ سے زیادتی کرنے والے ملزم کا کیس بھی زیر سماعت ہے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کے کیسز کا جلد فیصلہ نہ ہونے کی بڑی وجہ پولیس کی ناقص تفتیش ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…