جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا ٗافغانستان سے خطرہ ختم ہو جائے تو یہ لوگ کیا کریں گے؟ میجر جنرل آصف غفور کا انٹرویو میں انکشاف

datetime 11  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن ہم نے اپنی طرف امن قائم کر لیا ہے اور اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا ٗپاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا ٗافغانستان سے خطرہ ختم ہو جائے تو آج ہی اپنی 50 فیصد فوج واپس بلا لیں ٗبارڈر مکینزم طے پا گیا تو سرحد کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے ٗروس کے ساتھ

دفاعی تعلقات بڑھ رہے ہیں ۔جمعرات کو میجر جنرل آصف غفور نیا ایک ایٹرویو کے دوران کہاکہ امریکی صدر کے بیان سے متعلق حکومت پاکستان جواب دے چکی ہے لیکن پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک مشکل مرحلہ تھا کیونکہ فاٹا کی 7 ایجنسیوں میں طالبان کا اثرورسوخ تھا جب کہ سوات آپریشن مختلف تھا کیونکہ وہاں آبادی ہے اور شمالی وزیرستان کے آپریشن سے قبل ایک آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف تمام آپریشن مختلف تھے لیکن پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہم پرعزم قوم ہیں، پاکستان نے اس جنگ میں 100 فیصد نتائج دیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عملی طور پر تو جنگ ہو چکی ہے لیکن موجودہ مرحلہ مشکل ہے، اب ہماری جنگ ایک اَن دیکھے دشمن کے خلاف ہے اور اْس اَن دیکھے دشمن کو ہمیں ڈھونڈنا اور ختم کرنا ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم نے اپنی طرف امن قائم کر لیا ہے اور اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے کچھ اقدام پاکستان اور کچھ افغانستان کو کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ افغان سرحد پرفوج تعینات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سرحد پار سے حملوں کا خطرہ موجود ہے، ایسی صورت حال میں فوج کم کر کے

کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان سے خطرہ ختم ہو جائے تو آج ہی اپنی 50 فیصد فوج واپس بلا لیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جڑی اپنی 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے، اگر بارڈر مکینزم طے پا گیا تو سرحد کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ بارڈرمینجمنٹ سے متعلق مکینزم پر افغانستان کو دستاویزات بھی بھیجے ہیں، اگر آنے والے سالوں میں بارڈر مینجمنٹ کر لی جائے تو بہت حالات میں بہت بہتری آ جائے گی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کا بارڈر ایران کیساتھ لگتا ہے، ایران سے بارڈر کمیونیکیشن بہتر ہورہی ہے، ایران نے بارڈر پرحفاظتی اقدامات شروع کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پرعمل ہونا ضروری ہے، داعش کے مکمل خاتمیکے لئے کام ہورہا ہے، روس کے ساتھ دفاعی تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جہاں بھی ضرورت پڑی، پاک فوج تعاون کرے گی۔میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانا ضروری ہے، پاک فوج فاٹا میں موجود رہیگی، عوام کی خواہش ہے کہ پاک فوج فاٹا میں موجود رہے فاٹا کو27 ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی فنڈز مل رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…