منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سی پیک سے 17 ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا ہو گی، سرتاج عزیز

datetime 12  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیزنے کہا ہے کہ کستان ایک دہائی سے توانائی بحران کا شکار ہے ،توانائی بحران نے معیشت کو نقصان اور عوام کی زندگی کو بڑی طرح طرح متاثر کیا گزشتہ تین سال میں بجلی کے شعبے میں خاطر خواہ کام ہواسی پیک سے 17 ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا ہو گی، توانائی بحران نے معیشت کو نقصان اور عوام کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں

2006 سے 2013 کے درمیان اقتصادی ترقی کی شرح نمو سست ہو کر 3 فیصد سے بھی کم رہ گئی تھی ۔ توانائی کے متبادل ذرائع سے تین ہزار میگا واٹ کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ اضافی بیس ہزار میگا واٹ کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔2018 تک 9 ہزار میگاواٹ سی پیک سے حاصل ہوںگے ،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چینی کمپنیوں کے ساتھ توانائی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ماضی میں تھرمل ذرائع سے مہنگی بجلی کے منصوبے لگائے گئے ،درآمدی مہنگے ذرائع کے بجائے ایل این جی مکس اور ہائیڈرل سے سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔داسو اور بھاشا ڈیم پر کام شروع کردیا گیا ہے،دونوں منصوبوں سے 9ہزار میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی۔ پیداوار میں اضافے کے ساتھ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام پر بھی توجہ دے رہے ہیں ۔ اسلام آباد میں یونیورسٹی آف انجئنرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کی جانب سے پائیدار توانائی اور جدید ٹیکنالوجی پر ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے شرکت کی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی سرتاج عزیز نے کہا کہ توانائی بحران نے معیشت کو نقصان اور عوام کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں 2006 سے 2013 کے درمیان اقتصادی ترقی کی شرح نمو سست ہو کر 3 فیصد سے بھی

کم رہ گئی تھی ۔ مگر گزشتہ تین سالوں میں توانائی بحران کو حل کرنے کے لیے بجلی کے شعبے میں خاطر خواہ کام ہوا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان اس بحران سے باہر نکل رہا ہے ۔ ڈپٹی چیئرمین سرتاج عزیز نے کہا توانائی بحران کے حل میں سب زیادہ اہم کردار سی پیک توانائی پیکج ہے ، جس سے تقریبا 17 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی ، اس میں سے نصف 2018 کے اختتام سے پہلے گریڈ میں شامل کر دی جائے گا ۔

جبکہ دوسرے ذرائع سے تین ہزار میگاواٹ منصوبوں پر کام جاری ہے ان منصوبوں کے ساتھ، توانائی کی قلت کا فوری مسئلہ کافی حد تک حل ہو جائے گا ، انھوں نے مزید کہا کہ دو اہم ہائیڈیل منصوبوں یعنی داسو اور بھاشا ڈیم سے بھی کافی حد تک انرجی مکس کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی.جس سے ملک میں 9ہزار میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی ، انھوں نے کہا کہ ماضی میں تھرمل ذرائع سے مہنگی بجلی کے منصوبے لگائے گئے

، مگر اب درآمدی مہنگے ذرائع کی بجائے ایل این جی اور ہائیڈرل سے سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ایل این جی کی درآمد سے ملک میں گیس کی قلت کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی . انھوں نے کہاکہ پیداوار میں اضافے کے ساتھ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کی بہتری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چینی کمپنیوں کے ساتھ توانائی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ )

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…