بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

عمران خان جوئے کے پیسے کو حلال قرار دیتاہے، ایک لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ کا فلیٹ کیسے خریدا؟ کیا فلیٹ جوئے کے پیسے سے خریدا؟ ن لیگی رہنما عمران خان پر چڑھ دوڑے

datetime 13  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما حنیف عباسی نے کہاہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ کے نام پر تین آف شور کمپنیاں ہیں ٗ جن کے بارے میں ان سے پوچھاجائیگا ٗ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ عمران خان جتنا مرضی جھوٹ بول لیں، ان پر لگائے گئے تمام الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا عمران خان نے سپریم کورٹ میں بھی الیکشن کمیشن والا طریقہ اپنایا ہوا ہے کہ وہ پیش نہیں ہوتے،عمران خان عدالت کے سامنے پیش ہوں اور تمام تر الزامات کا جواب دیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس چند ہی دن بچے ہیں، ہم ان کا چہرہ پوری قوم کے سامنے بے نقاب کر کے رہیں گے۔ حنیف عباسی نے کہا کہعمران خان جھوٹ بولنے کی بنیادپرقوم کی ترجمانی کادعویٰ کرتے ہیں ٗعمران خان کن پیسوں سے آکسفورڈ گئے اس کی بھی تحقیقات ہونی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیرات کی رقم سے متعلق ہرکسی کی تحقیقات ہوتی ہے، عمران خان آپ نے سترہ ہزار پاونڈ کا فلیٹ کیسے خریدا تھا؟ اس فلیٹ کے بعد عمران خان نے اربوں روپے کی پراپرٹی لی۔حنیف عباسی نے کہاکہ ججزنے کہا1لاکھ70ہزارپاؤنڈکافلیٹ آپ نے کیسے خریدا ۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کی نہ گھر والی گھر میں ٹھہرتی ہے نہ رسیدیں، وہ اتنا زیادہ جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ دکھائی دئیے۔اس موقع پر دانیال عزیز نے کہاکہ عمران خان کی جے آئی ٹی جھوٹ کاپلندہ ہے ٗعمران خان کے ڈس کوالیفائی ہونے سے نوازشریف کاکوئی تعلق نہیں۔دانیال عزیز نے کہا کہ عمران خان عدالت میں آئیں اور تمام تر الزامات کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم 14 ماہ احتساب کے لئے پیش ہوئے ہیں، اب عمران خان کی باری ہے۔ انہوں نے کہا عمران خان سے جب سے حساب مانگا گیا ہے وہ چھپتے پھر رہے ہیں، آج بھی وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ دو مراحل کے بعد اب احتساب کا تیسرا مرحلہ آ رہا ہے تاہم عمران خان تیار رہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں اتنی غلطیاں ہیں کہ ہمارے وکلاء کو سمجھ نہیں آرہی کہ اس پر دلائل کہاں سے شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔انہوں نے مزیدکہا کہ جے آئی ٹی کو رپورٹ بنانے کاکہا گیا تھا مگر انہوں نے ناول لکھ دیا اور کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنا شروع کر دیئے۔ انہوں نے کہاکہ رپورٹ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، اس میں بیشمارغلطیاں ہیں، رپورٹ کو ایٹمی دھماکا بنا کر پیش کیا گیا لیکن وہ تو چھوٹا سا پٹاخہ نکلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…