ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

شہر قائد بڑی تباہی سے بچ گیا۔۔رینجرز کا بڑا معرکہ کتنے دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا؟ٹارگٹ کیا تھا؟

datetime 22  فروری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(آن لائن)قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے کراچی کو بڑی تباہی سے بچا لیا ، ملیر کے علاقے بکرا پیڑی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم ضلع ٹانک کا امیر گل زمان اور ایک خود کش بمبار سمیت8دہشت گردوں کو ’’پار‘‘ کردیا گیا،ہلاک ملزموں کے قبضے سے اسلحہ ، لیپ ٹاپ بم اور بارودی مواد بھی برآمد کرلیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں سیکورٹی فورسز کی

جانب سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی تلاش کا عمل جاری ہے اس دوران ملیر کے علاقے بکرا پیڑی میں حساس اداروں کی اطلاع پر پولیس نے چھاپہ مارا ،دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کر دی ، جوابی کارروائی میں پولیس کو ملزموں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ صورتحال دیکھتے ہوئے مزید نفری اور رینجرز کو بھی طلب کیا گیا۔اس دوران دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی جوابی کارروائی میں کالعدم تنظیم کے ضلع ٹانک کا امیر گل زمان سمیت 8دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مرنیوالوں میں ایک خود کش بمبار بھی شامل ہے ،دہشت گردوں سے ایک لیپ ٹاپ بم سمیت دیگر اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ہلاک دہشت گردوں میں کالعدم تنظیم جماعت احرار کا مبینہ دہشت گرد بھی شامل ہے۔ہلاک دہشت گرد کراچی میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ سمیت دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں مطلوب تھے۔حملے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی ملیر را انوار نے کہا کہ دہشتگردوں کا نیٹ ورک افغانستان سے چل رہا ہے اور دہشتگرد کوڈ ورڈز کا استعمال کرتے ہیں۔ کراچی کے علاقے ملیر بکرا پیٹری میں پولیس مقابلے کے بعد ایس ایس پی ملیر راانوار نے کہا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر ملیر میں آپریشن کیا گیا جس میں آٹھ دہشت گردوں میں ایک

گل زمان دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہوسکتا ہے۔را ئوانوار نے کہا کہ ایک ہلاک دہشت گرد کی عمر 16 سال کے قریب ہے اور وہ کم عمر نوجوان خودکش بمبار ہوسکتاہےجس کا ٹارگٹ اہم علاقے تھے۔انہوں نے کہا کہ وڈھ اور ساکران میں کافی تعداد میں دہشت گرد موجود ہیں اور دہشت گرد کارروائیاں کرکے واپس وڈھ اور ساکران چلے جاتے ہیںدہشت گردوں سے لیپ ٹاپ بم ،اسلحہ اور

بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ایس ایس پی ملیر را انوار کا کہنا تھا ہلاک ہونیوالوں میں کالعدم تنظیم ٹانک کا امیر گل زمان اور تاج محمد عرف لالہ بھی شامل تھے ۔ گل زمان اغوا برائے تاوان اور قتل میں ملوث تھا ، دہشت گردوں کی جانب سے کراچی میں اہم تنصیبات اور عمارتوں کو ہدف بنائے جانے کی اطلاع تھی ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…