جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

’’کافر ہوں سر پھرا ہوں مجھے مار دیجئے‘‘

datetime 14  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ روز لاہور میں ہونیوالے دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین بھی شہید ہوئے ،وہ ایک بہادر انسان اور قابل افسر تھے ۔ڈی آئی جی احمد مبین نے پنجاب اور بلوچستان میں دہشتگردی کیخلاف کیلئے اہم کردار ادا کیا اور مختلف آپریشنز میں کئی دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔ شہادت سے قبل سوشل میڈیا پر کیپٹن احمد مبین نے ایک نظم پوسٹ کی جس کا عنوان ’’کافر ہوں سر پھرا ہوں مجھے مار دیجئے‘‘ تھا جو بہت پسند کی جا رہی ہے اور جو بھی اسکو پڑھتا ہے آبدیدہ ہو جاتا ہے ۔کیپٹن ریٹائرڈ شہید احمد اپنے کام کے ساتھ ساتھ ویلفیئر کے کاموں میں بھی بہت مقبول تھے۔
مرحوم نے جو آخری نظم شیئر کی وہ درج ذیل ہے ۔
’’کافر ھُوں، سر پھرا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں سوچنے لگا ھُوں ، مجھے مار دیجیے
ھے احترام ِحضرت ِانسان میرا دین
بے دین ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں پوچھنے لگا ھُوں سبب اپنے قتل کا
میں حد سے بڑھ گیا ہوں، مجھے مار دیجیے
کرتا ھُوں اہل جبہ ودستار سے سوال
گستاخ ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے
خوشبو سے میرا ربط ھے جگنو سے میرا کام
کتنا بھٹک گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے
معلوم ھے مجھے کہ بڑا جرم ھے یہ کام
میں خواب دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
زاہد یہ زہد و تقویٰ و پرہیز کی روش
میں خوب جانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
بے دین ھُوں مگر ھیں زمانے میں جتنے دین
میں سب کو مانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ھُو کا شور
میں آخری صدا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں ٹھیک سوچتا ھُوں، کوئی حد میرے لیے ؟
میں صاف دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
یہ ظلم ھے کہ ظلم کو کہتا ھُوں صاف ظلم
کیا ظلم کر رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں عشق و امن ھون، میں علم ھُوں، میں خواب
اک دردِ لادوا ھُوں ، مجھے مار دیجیے
زندہ رھا تو کرتا رھُوں گا ھمیشہ پیار
میں صاف کہہ رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے
جو زخم بانٹتے ھیں انہیں زیست پہ ھے حق
میں پھول بانٹتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
ہے امن شریعت تو محبت مرا جہاد
باغی بہت بڑا ھُوں، مجھے مار دیجیے
بارود کا نہیں مرا مسلک درود ھے
میں خیر مانگتا ھُوں، مجھے مار دیجیے‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…