اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

شکیل آفریدی کی رہائی ،حکومت نے اہم قدم اُٹھالیا

datetime 5  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہاہے کہ پاکستان شکیل آفریدی کی رہائی کے معاملے پر امریکہ سے بات کرسکتا ہے ٗڈاکٹر آفریدی پشاور کی ایک جیل میں 33 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ٗمعاملے کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کر ناچاہیے ہیں ٗپٹھان کوٹ حملے میں حافظ سعید کے ملوث ہونے سے متعلق بھارتی ثبوت ہماری عدالتوں میں سماعت کے قابل نہیں ۔

ایک انٹرویو میں طارق فاطمی نے کہا کہ ہم اس معاملے کو قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے حل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ یہ معاملہ کسی کیلئے پرخاش کا باعث بنے۔انہوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے بھی آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن ہم نے انہیں واضح طور پر بتا دیا تھا کہ اس شخص نے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے ساتھ قانون کے تحت برتاؤکیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں یہ تاثر مسترد کردیاکہ پاکستان نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ پرپابندیاں بیرونی دباؤ پر لگائی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک خودمختارملک ہے اور اپنی ترجیحات کے مطابق فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔پٹھان کون میں دہشتگردی کے حملوں میں حافظ سعید کے ملوث ہونے کے بھارتی الزامات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ پاکستان خودمختار ریاست ہے اور اس کی عدالتیں آزادانہ کام کررہی ہیں۔طارق فاطمی نے کہاکہ پاکستان پٹھان کوٹ واقعے میں ملوث نہیں ہے ہم نے بھارت سے کہاہے کہ وہ پٹھان کوٹ حملے میں حافظ سعید کے ملوث ہونے کاٹھوس ثبوت فراہم کرے مگر بھارت کی طرف سے فراہم کئے گئے ثبوت ہماری عدالتوں میں سماعت کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے قومی لائحہ عمل اور آپریشن ضرب عضب پر قومی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان اتفاق رائے اور ہم آہنگی کے حصول کیلئے انتھک کام کیا ہے۔ طارق فاطمی نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی پرقابو پالیا گیاہے اور عالمی برادری پاکستان کی کوششوں کااعتراف کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…