اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

پشاور میں کروڑوں روپے کا نقصان،چوہدری نثار برہم،بڑا حکم جاری کردیا

datetime 31  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے نادرا آفس پشاور کی تعمیر میں بے ضابطگیوں، بلڈنگ کی تکمیل میں غیر ضروری التوا, سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیدیا

۔تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثارنے نادرا آفس پشاور کی تعمیر میں بے ضابطگیوں، بلڈنگ کی تکمیل میں غیر ضروری التوا, سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔نادراکی مذکورہ عمارت کا ٹھیکہ 77.8کروڑ کے عوض 2012 میں دیا گیا جس کی رو سے فروری2013 تک بلڈنگ کی تعمیر مکمل ہونا تھی۔لیکن چار سال گزرنے کے باوجود مذکورہ بلڈنگ کی تعمیر تاحال مکمل نہیں ہو سکی اور اسکا پچاس فیصد سے زائد کام باقی ہے۔بلڈنگ کی تعمیر کے سلسلے میں کنسلٹنٹ کی خدمات غیر شفاف طریقے سے حاصل کی گئیں جسکو طے شدہ رقم سے دگنی ادائیگی کی جا چکی ہے اس کے باوجود اس کی جانب سے مزید رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے اس بات کی بھی تحقیقات کرے کہ کن وجوہات کی بنا پر مختلف ادوار میں نادرا حکام کی جانب سے ٹھیکیداران اور دیگر کو رعایت ملتی رہی اور ذمہ داران کے خلاف کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ اگر عمارت کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جاتا تو نادرا کی موجودہ عمارت کے کرائے کی مد میں ادا کیے جانے والے کروڑوں روپے بچائے جا سکتے تھے۔ اس رقم کے زیاں کا حساب کون دے گا؟ وزیر داخلہ نے نادرا سے جواب طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…