بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

راحیل شریف کے کمانڈر انچیف بننے کے حوالے سے خواجہ آصف نے بیان کیوں بدلا ؟ کون سی تین بڑی سپر پاورز درمیان میں رکاوٹ بنیں ؟ 

datetime 14  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) یادش بخیر کہ پاکستان کے سابق آرمی سربراہ راحیل شریف کو 39ممالک کے اتحاد کا کمانڈر انچیف بنانے کے حوالے سے افواہیں زبان زد عام تھیں ۔ کسی نے کچھ کہا اور کوئی کچھ بولا ۔ اس حوالے سے خواجہ آصف کا پہلا بیان بھی قابل غور اور بڑی اہمیت کا حامل تھا تاہم چند دن بعد انہوں نے اپنا بیان بدل ڈالا ۔

اس حوالے سے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے وزیر دفاع کی تصدیق اور پھر دو دن بعد بیان بدل دینے کی اصل وجہ امریکہ ، روس اور ایران کا دباؤ ہے، آئندہ دنوں میں سعودی بادشاہ کا نوازشریف سے براہ راست رابطہ متوقع ہے جس میں وہ اپنا مطالبہ دہرائیں گے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ضیاء شاہد کاکہناتھاکہ میرے نزدیک وزیر دفاع کے ایک دم بیان بدل دینے اور اسلامی فورس میں شمولیت کے حوالے سے انکار کی وجہ امریکہ اور روس کی جانب سے آنے والا دباؤ ہے۔ ایران نے بھی کھل کر اس اتحادی فورس بارے تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ایران، عراق، شام، لبنان جیسے اہم ملک اس اتحاد میں شامل نہیں ہیں، اوباما انتظامیہ تو اس اتحادی فورس کے حق میں تھی ، جب اس اسلامی اتحادی فورس کا اعلان کیا گیا تو امریکہ نے کوئی مخالفت نہیں کی لیکن اب نئے امریکی صدر ٹرمپ اس کے حق میں نہیں ہیں جس کے باعث حکومت کو یکدم یو ٹرن لینا پڑا۔



کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…