جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

میں نے راحیل شریف کے بارے میں ایسا کبھی نہیں کہا ۔۔۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا یو ٹرن لے لیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2016 |

لندن (آئی این پی )آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے بیرون ملک جانے کے لیے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے کبھی مدد کی درخواست نہیں کی، میری بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا،پاکستان میں تمام ادارے مل کر کام کرتے ہیں ’حقیقت یہ ہے کہ پلی بارگین کا آغاز میرے ہی دورمیں ہوا کیونکہ اس وقت قومی خزانے میں 50 کروڑ ڈالر بھی نہیں تھے، لیکن پلی بارگین کا استعمال عقل کے ساتھ کیا جانا چاہیے،پاکستان میں کسی کو سزا نہیں ملتی، لیکن پلی بارگین سے کم از کم قومی خزانے میں کچھ رقم آجاتی ہے،نیب کے نئے چیئرمین کو نہ ہی حکومت اور نہ ہی اپوزیشن سے ہونا چاہیے۔ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں پرویز مشرف نے کہاکہ بیرون ملک جانے کے لیے کسی نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی میں نے کسی سے رابطہ کیا، راحیل شریف نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی میں نے ان سے کوئی درخواست کی، میری بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔مقامی سیاست میں فوجی اثر و رسوخ کے حوالے سے سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں تمام ادارے مل کر کام کرتے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بیان کا حوالے دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی واپسی کے حوالے سے ابھی کوئی وقت نہیں دے سکتے اور نہ ہی عدالتی حکم میں ان کی وطن واپسی سے متعلق کوئی حکم موجود ہے۔پرویز مشرف نے کہا کہ 2008 میں جس وقت انہوں نے صدارت کا عہدہ چھوڑا اس وقت بیرونی قرضوں کا حجم 36 ارب ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر 75 اڑب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہم گزشتہ آٹھ سال سے سالانہ 5 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں، لیکن یہ رقم جاتی کہاں ہے؟ یہ رقم حکمرانوں کی جیبوں میں جاتی ہے۔سابق صدر نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ پلی بارگین کا آغاز میرے ہی دور میں ہوا کیونکہ اس وقت قومی خزانے میں 50 کروڑ ڈالر بھی نہیں تھے، لیکن پلی بارگین کا استعمال عقل کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں کسی کو سزا نہیں ملتی، لیکن پلی بارگین سے کم از کم قومی خزانے میں کچھ رقم آجاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…